بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دکان میں شراکت داری کا حکم؟ گڈول کی بیع کا حکم؟


سوال

 زید کی دوکان ہے، اس نے دوسرے شخص بکر کو کہا کہ وہ زید کی دوکان میں سے نصف حصہ خرید کر شراکت داری کر لے،  بکر کے پاس انویسٹمنٹ کے لیے رقم نہیں تھی، اس نے تیسرے شخص خالد سے کہا کہ میرے جاننے والے ہیں ، آپ ان کی دوکان میں نصف کی شراکت داری کر لیں ، آپ کی طرف سے جتنا کام ہو گا وہ میں کروں گا ،حتی کی حساب و کتاب و دیگر امور کی دیکھ بھال میرے ذمہ ہو گی، آپ کو طے شدہ تناسب پر نفع و نقصان پہنچا دیا کر وں گا۔ یعنی بکر بنیادی طور پر زید اور خالد کے درمیان مڈل مین کا کردار اداکر رہا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ:

(الف) شریعت کی رو سے یہ شراکت داری کرنا کیسا ہے َ؟

(ب) اگر بکر بھی اپنی ذمہ دار ی کے عوض اجرت کا متقاضی ہو تو کیا یوں ہو سکتا ہے کہ خالد کو جتنا نفع ہو گا اس میں سےدس فیصد بکر کو اس کی اجرت کے طور پر دے دیا جائے یا جیسے ایجنٹ/ دلالی میں ہوتا ہے کہ چار ، پانچ فیصد دلالی دی جاتی ہے اس میں بھی ایسے اختیار کر لیں کہ جو نفع /سیل ہو اس کے حساب سے دلالی لے لیا کرے،ایسا کرنے کا حکم کیا ہو گا۔

(ج) یہ بھی واضح رہے کہ دکان کی کل مالیت مثال کے طور پر دس لاکھ نکالی گئی ہے، جس میں سے اصل تجارتی سامان تو شاید پانچ لاکھ ہو ، لیکن دکان میں دیگرکام جیسے ریک ،سیلنگ رنگ و روغن وغیرہ کی ویلو (مثلا دولاکھ )بھی ٹوٹل مالیت میں شامل کی گئی ہے، اسی طرح دکان کی ماہانہ سیل ،لوکیشن،شہرت و دیگر لوازمات کی مد میں یعنی دکان کی گڈ ویل (GOOD WILL)کے بھی تین لاکھ روپے شامل کیے گئے۔ اور اس طریقہ کار پر فریقین کا اتفاق بھی ہے۔ کیا اس طرح دکان کی مالیت نکالنا اور پھر اس کا نصف حصہ فروخت کر کے اس میں شراکت داری قائم کرنا شرع شریف کے نزدیک جائز ہے؟

جواب

1۔ شریعت کی رو سے یہ شراکت داری صحیح ہے۔

2۔بکر کی حیثیت چوں کہ اجیر کی ہے، اس لئے بکر کو   اس کی ذمہ داری کے عوض متعین اجرت دینا ضروری ہے، نفع  (سیل) کا کچھ حصہ مقرر کرکے دینا جائز نہیں۔

3۔۔۔۔۔۔دکان کی قیمت میں دیگر سامان کا تابع بنا کر  دکان کی گڈ ویل (GOOD WILL)کے بھی تین لاکھ روپے شامل کرنا جائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

" ولو كان من أحدهما دراهم ومن الآخر عروض فالحيلة في جوازه: أن يبيع صاحب العروض نصف عرضه بنصف دراهم صاحبه، ويتقابضا ويخلطا جميعا حتى تصير الدراهم بينهما، والعروض بينهما، ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز ".

(بدائع الصنائع: كتاب الشركة، فصل وأما بيان شرائط جواز هذه الأنواع ( 6/ 59)،ط. دار الكتاب العربي، سنة النشر 1982، مكان النشر بيروت)

اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:

"(ولا تصح) الإجارة (حتى تكون المنافع معلومة والأجرة) أيضاً (معلومة) لأن الجهالة في المعقود عليه وبدله تفضي إلى المنازعة، كجهالة الثمن والمثمن في البيع".

(اللباب في شرح الكتاب: كتاب الإجارة (2/ 88)، ط. المكتبة العلمية، بيروت)

الدر المختار میں ہے:

"وفي الأشباه: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة".

(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب البيوع، مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة 4/ 518 ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144407101333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں