بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دعاء:’’ يَا رَحْمَنُ يَا رَحِيْمُ بِحقِّ بِسمِ اللهِ الرّحْمَنِِ الرّحِِيْمِ‘‘ کی تحقیق


سوال

آج کل سوشل میڈیا پر ایک دعا ءگردش کر رہی ہے جس کے آخر میں"بِحقِّ بِسمِ اللهِ الرّحمنِ الرّحيمِ"آتا ہے، اُسے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف  منسوب کیا جارہا ہے، کیا   واقعی یہ دعاء نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ؟اگر  نبی اکرم  صلی اللہ  علیہ وسلم سے منقول ہے تو  اس کا حوالہ  بتادیں۔

جواب

سوال میں آپ نے جس دعاء کے بعض الفاظ ذ کرکرکے اس کے بارے میں دریافت کیاہے، یہ دعاء درج ذیل  تفصیل کے ساتھ عوام میں پھیلی ہوئی ہے:

’’ہمارے نبی نے فرمایا:جب بھی آپ کا کوئی مسئلہ حل نہ ہورہا ہو،کوئی کام نہ بن رہا ہو، اچانک سے آپ پر پریشانیاں آرہی ہوں، اچانک سے آپ کے ساتھ حادثے ہورہے ہوں، برےکام، برے خیالات آرہے ہوں ، ایسی صورت میں  اگر آپ  ان تمام چیزوں سے بچنا چاہ رہے ہوں تو  اول وآخر  تین تین بار درودشریف کے ساتھ سو مرتبہ   اس   دعاء کی ایک تسبیح پڑھ لیاکریں :" يَارَحْمَنُ يَارَحِيْمُ بِحقِّ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ"،یہ نبی کا عمل ہے، عملِ نبوی کہاجاتا ہے،نبی نے اس  دعاء کو سکھایا ہے‘‘۔

کتبِ احادیث اور کتبِ اَدعیہ وغیرہ میں تلاش کے باوجود ہمیں مذکورہ الفاظ میں کوئی دعاء نہیں مل سکی، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کاثبوت نہ مل جائے،  اسے نبی کریم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیاجائے۔ البتہ بطور دعا کے اس پر عمل میں حرج نہیں۔

   دعاء کی قبولیت یا  کسی حاجت کے  پوری ہونے کے لیے   اکابر اور بزرگانِ دین سے درج ذیل   اعمال  بھی ثابت ہیں:

۱۔جو شخص بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھے کہ ہر ایک ہزار پورا کرنے کے بعد   درود شریف کم ازکم ایک مرتبہ   پڑھے، اور اپنے مقصد کے لیے دعاء مانگے، پھر ایک ہزار اور اسی طرح پڑھ کر مقصد کے لیے دعا کرے، اسی طرح بارہ ہزار پورے کردے تو ان شاء اللہ ہر مشکل آسان اور حاجت پوری ہوگی۔

۲۔بسم اللہ کے حروف کے عدد سات سو چھیاسی ہیں، جو شخص اس عدد کے موافق سات روز تک متواتر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرے، اور اپنے مقصد کے لیے دعاء کرے ان شاء اللہ مقصد پورا ہوگا۔(ماخوذ ازجواہر الفقہ،احکام وخواص بسم اللہ ،ج:۲، ص:۱۸۷،ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

لہذا اکابر اور بزرگانِ دین کے مجربات  کی حیثیت سے مذکورہ اعمال کیےجاسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101994

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں