بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈراپ شپنگ کے ذریعے کمائی کا حکم


سوال

ڈراپ شپنگ سے پیسے کمانا حلال ہے ؟ اس میں ہوتا یہ ہے کہ چھوٹے سیلر ہول سیلر سے رابطہ کرتے ہیں، اور ان سے ان کی پروڈکٹس کی تصویریں لیتے ہیں، اور اپنے اکاؤنٹ پہ لگاتے ہیں ،اور پھر اس کی مارکیٹنگ کر تے ہیں، فیسبک اور انسٹاگرام پہ اپنے پیسوں سے ایڈس چلاتے ہیں، اور جب اس پروڈکٹ کا آڈر آتا ہے تو اس کو  آگے ہول سیلر کو دے دیتے ہیں اور اس ہول سیلر سے اپنا کمیشن لے لیتے ہیں اس طرح کمانا حلال ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ ڈراپ شپنگ کے کام کا عام طور  پر طریقہ یہ ہے کہ بائع اپنی ویب سائٹ یا اپنےپیج پر  مصنوعات کی تصاویر اور تمام تفصیلات  ظاہر کردیتا ہے، ویب سائٹ یا پیج دیکھنے والا اشیاء  کو دیکھ کراپنی پسند کردہ شے (چیز) پر کلک کرکےاس چیز کو خریدنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے، رقم کی ادائیگی کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کیے جاتے ہیں، کبھی ادائیگی ڈیلیوری کے وقت  جاتی ہے یعنی جب مبیع مقرر ہ جگہ پر پہنچا دی جاتی ہے تو مشتری رقم ادا کرتا ہے اور بعض دفعہ ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جاتی ہے، بائع مشتری کا کریڈٹ کارڈ نمبر حاصل کرکے بینک کو بھیجتا ہے اور وہاں سے اپنی رقم وصول کرلیتا ہے،  مبیع کی ادائیگی بعض اوقات کسی کوریئر سروس کے ذریعے کی جاتی ہے اوربعض اوقات کمپنی خود یہ کام کرتی ہے۔ ضروری  نہیں کہ مبیع (فروخت کی جانے والی چیز) بائع کی ملکیت میں موجود ہو، بلکہ وہ  آرڈر ملنے پر اشیاء کا انتظام کرتا ہے اور مشتری کے پتے  پر یہ اشیاء ارسال کرتا ہے۔

اس طریقہ کے  کار وبار میں  بظاہر خریدار کا اپنی مطلوبہ اشیاء پر کلک کردینا قبول معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خریدار کا عمل ایجاب ہے اور بائع  کا اپنی مصنوعات اپنی سائٹ پر ظاہر کردینا ایجاب کی پیشکش ہے، قبول نہیں،  جیسے دکان دار  اپنے اسٹال پراشیاء سجادیتا ہے اوران پر قیمت بھی چسپاں ہوتی ہے ، مگر وہ ایجاب نہیں ہوتا، بلکہ دعوتِ ایجاب ہوتی ہے، اسی طرح ویب سائٹ پر  بائع کااپنی اشیاء ظاہر کردینا بھی دعوتِ ایجاب ہے اورجیسے دکان پر دکان دار کاعمل قبول ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری میں بھی بائع کاعمل ایجاب کی قبولیت ہوتا ہے۔ ایک عام دکان پر اگر خریدار  اوردکان دار زبان سے کچھ نہ کہیں تو دونوں جانب سے بیع بطورِ  تعاطی  کے مکمل ہوجاتی ہے اوراگر خریدار زبان سے خریدار ی کی خواہش کا اظہارکرے اور دکان دار زبان سے کچھ نہ کہے، بلکہ چیز حوالے کردے یا ثمن قبول کرلے تو  بائع کی طرف سے فعلاً قبول ہوتا ہے، اسی طرح ویب سائٹ  پر بھی فعلی قبول ہوجاتا ہے۔

             بہرحال چیزوں کو پیش کرنا ایجاب نہیں، بلکہ ایجاب کی دعوت ہوتا ہے،  یہی وجہ ہے کہ دکان میں جب خریدارکو ئی چیز اٹھالیتا ہے تواس وقت بیع مکمل نہیں ہوتی، بلکہ کاؤنٹر پر آکر بھاؤ تاؤ ہوتا ہے، اگر چیزوں کو پیش کرنا ایجاب ہوتا تو خریدار کے اٹھا لینے اور کاؤنٹر پر پیش کرنے کے بعد اسے واپس لینے کا حق نہ ہوتا۔

        مختلف ویب سائیٹس پر جب گاہک اپنی پسندیدہ چیز  پر کلک کرتا ہے تو یہ تحریری ایجاب ہوتا ہے، جب یہ ایجاب کمپنی یا فرد کے پاس جاتا ہے تو وہ اسے قبول کرلیتا ہے یوں یہ عقد جانبین سے تحریری صورت میں عمل پذیر ہوتاہے۔

انٹرنیٹ پر اس طرح خریدوفروخت کرتے ہوئے درج ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے :

1۔ انٹرنیٹ پرسونا چاندی یا کرنسی کی خریدوفروخت  ہو تو بیعِ صرف کے احکام کی رعایت  لازم ہوگی۔

2۔ مبیع  (فروخت کردہ چیز) اور ثمن  (قیمت کے طور پر طے کردہ چیز) کی مکمل تفصیل بتائی جائے، جس سے ہر قسم کی جہالت  اور ابہام ختم ہوجائے۔

3۔ کوئی بھی شرط فاسد نہ لگائی گئی ہو۔

4۔ صرف تصویر دیکھنے سے خیارِ رویت  ساقط نہ ہوگا، لہذا اگر مبیع تصویر کے مطابق نہ ہو تو مشتری کو واپس کرنے کا اختیار ہوگا۔

5۔ ویب سائٹ پر جان دار کی تصویر نہ لگائی جائے۔

6۔ اگر ویب سائٹ والے آرڈر ملنے پر کسی اور جگہ سے چیز مہیا کرتے ہوں تو صارف کو اس وقت تک نہ بیچیں، جب تک چیز ان کے قبضے میں نہ آجائے، البتہ وہ وکیل بالشراء (خریداری کے وکیل)کے طورپر معاہدہ کرسکتے ہیں، یا خریداروں سے بیع  (سودے) کے بجائے بیچنے کا وعدہ کرسکتے ہیں۔

7۔ ویب سائٹ پر اشیاء بیچنے والے  کو چاہیے کہ  ادائیگی کے لیے کریڈٹ کارڈ کا آپشن  دینے کے بجائے صرف ڈیبٹ کارڈ  یا    ڈیلیوری پر ادائیگی کا آپشن  دے؛ کیوں کہ  کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں، اگر چہ وقتِ مقررہ کے اندر ادائیگی کردی جائے اورسود دینے کی نوبت نہ آئے۔

            اگر ویب سائٹ پرخریدی گئی چیز اس طرح نہیں جیسا کہ اس کی صفات میں بیان کیا گیا تھا تو مشتری کو خیارِ رؤیت (یعنی چیز کو دیکھ کر معیار کے مطابق نہ ہونے یا پسند نہ آنے کی صورت میں واپس کرنے کا اختیار)  حاصل ہوگا، نیز اگر اس شے میں کوئی ایسا  عیب ہو جس کا مشتری کو علم نہیں تھا تو پھر مشتری کو خیارِ عیب  (عیب کی وجہ سے لوٹانے کا اختیار) حاصل ہوگا، اگر وہ چاہے تو پوری قیمت پر اسے لے لے، اگر چاہے تو واپس کردے ، لیکن اسے یہ حق نہیں کہ وہ مبیع رکھ کر نقصان کی قیمت لے۔ بائع کو خیارِ رؤیت تو مطلقاً حاصل نہیں ہوگا، البتہ ثمن میں کھوٹ ہوتو اسے تبدیلی کاحق ہوگا، مگر سودے  کو منسوخ کرنے کاحق اسے پھر بھی نہ ہوگا۔

     فتاوی شامی میں ہے:

"إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجوداً مالاً متقوماً مملوكاً في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم منح."

( کتاب البیوع، باب بیع الفاسد، ج: 5، ص: 58، ط: سعید)

تبیین  الحقائق  میں ہے :

"قال رحمه الله: (لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام "إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه"۔ رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."

( کتاب البیوع، ج: 4، ص: 80، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحا. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى."

(کتاب البیوع، مطلب البیع بالتعاطی، ج: 4،ص: 516، ط: سعید)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"شراء ما لم يره جائز، كذا في الحاوي. وصورة المسألة أن يقول الرجل لغيره: بعت منك هذا الثوب الذي في كمي هذا، وصفته كذا، والدرة التي في كفي هذه، وصفتها كذا أو لم يذكر الصفة، أو يقول: بعت منك هذه الجارية المنتقب ... وإن أجازه قبل الرؤية لم يجز وخياره باق على حاله، فإذا رآه إن شاء أخذ وإن شاء رده، هكذا في المضمرات."

(كتاب البيوع، الباب السابع في خيار الرؤية، الفصل الأول في كيفية ثبوت الخيار وأحكامه، ج: 3، ص: 57، ط: دار الفكر)

وفیہ ایضاً: 

"خيار العيب يثبت من غير شرط، كذا في السراج الوهاج. وإذا اشترى شيئًا لم يعلم بالعيب وقت الشراء ولا علمه قبله والعيب يسير أو فاحش فله الخيار إن شاء رضي بجميع الثمن وإن شاء رده، كذا في شرح الطحاوي. وهذا إذا لم يتمكن من إزالته بلا مشقة، فإن تمكن فلا كإحرام الجارية."

(الباب الثامن في خيار العيب، الفصل الأول في ثبوت الخيار وحكمه وشرائطه ومعرفة العيب وتفصيله، ج: 3، ص: 66، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں