بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈراپ شپنگ کاحکم کیا ہے؟


سوال

ڈراپ شپنگ کا حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ڈراپ شپنگ کے کام کا عام طور  پر طریقہ یہ ہے کہ بائع اپنی مصنوعات کی تصاویر اور تمام تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر یا اپنے پیج پر ظاہر کردیتا ہے، ویب سائٹ یا پیج دیکھنے والا اشیاء  کو دیکھ کراپنی پسند کردہ شے (چیز) پر کلک کرکےاس چیز کو خریدنے کا اظہار کرتا ہے،اب اگر ڈراپ شپ پنک کرنے والے کے پاس وہ چیز موجود ہے تو اس کا بیچنا درست ہے اور اگر وہ چیز اس کے پاس موجود نہیں بلکہ کسی اور سے دلوائے گا تو ڈراپ شپنگ کرنے والا اول بیع (حتمی سودا) نہ کرے بلکہ وعدہ بائع کر لے پھر وہ چیز اپنے پاس منگوا کر پہلے اس پر خود قبضہ کرے یا پھر اپنے وکیل کے ذریعہ قبضہ کرے،اور پھر اس خریدار کی طرف پارسل کر دے، جب خریدار پارسل قبول کرکے رقم کی ادائیگی کرے گا اس وقت بیع ( سودا) ہو جائے گا۔ نیز اگر ڈراپ شپ کرنے والے نے خود اس چیز پر قبضہ نہیں کیا یا وکیل کے ذریعہ قبضہ نہ کیا  اور دوسرے سے لے کر اسی کے ذریعے خریدار تک وہ چیز پہنچا دی تو یہ بیع فاسد ہوگی اور نفع حلال نہیں ہوگا۔

ترمذی میں ہے:

"عن حكيم بن حزام قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يأتيني الرجل يسألني من البيع ما ليس عندي، أبتاع له من السوق، ثم أبيعه؟ قال: ‌لا ‌تبع ‌ما ‌ليس ‌عندك."

(أبواب البيوع، باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك، ج: 2، ص: 525، ط: دار الغرب الإسلامي بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم."

(کتاب البیوع، ج: 5، ص: 147، ط: دار الکتب العلمیة)

فتح القدیر میں ہے:

"(قوله: و من اشترى شيئًا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه) إنما اقتصر على البيع ولم يقل إنه يتصرف فيه لتكون اتفاقية، فإن محمدا يجيز الهبة والصدقة به قبل القبض ... أخرج النسائي أيضا في سننه الكبرى عن يعلى بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عصمة عن حكيم بن حزام قال: قلت يا رسول الله إني رجل أبتاع هذه البيوع وأبيعها فما يحل لي منها وما يحرم؟ قال: لا تبيعن شيئا حتى تقبضه  ورواه أحمد في مسنده وابن حبان."

(فتح القدیر، کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، ج:6، ص:511، ط: دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"شراء ما لم يره جائز، كذا في الحاوي. وصورة المسألة أن يقول الرجل لغيره: بعت منك هذا الثوب الذي في كمي هذا، وصفته كذا، والدرة التي في كفي هذه، وصفتها كذا أو لم يذكر الصفة، أو يقول: بعت منك هذه الجارية المنتقب ... وإن أجازه قبل الرؤية لم يجز وخياره باق على حاله، فإذا رآه إن شاء أخذ وإن شاء رده، هكذا في المضمرات."

(كتاب البيوع،الباب السابع في خيار الرؤية،ج:3،ص:57،دارالفكر)

وفيه أيضا:

"خيار العيب يثبت من غير شرط، كذا في السراج الوهاج. وإذا اشترى شيئًا لم يعلم بالعيب وقت الشراء ولا علمه قبله والعيب يسير أو فاحش فله الخيار إن شاء رضي بجميع الثمن وإن شاء رده، كذا في شرح الطحاوي. وهذا إذا لم يتمكن من إزالته بلا مشقة، فإن تمكن فلا كإحرام الجارية."

(كتاب البيوع،الفصل الثامن في خيار العيب،ج:3،ص:66،دارالفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."

(كتاب البيوع، فرع، ج:4، ص:560، ط:سعيد)

المحيط البرهاني میں ہے:

"يجب ‌أن ‌يعلم ‌أن ‌شراء ‌مالم ‌يره ‌المشتري ‌جائز ‌عندنا، وصورة المسألة: أن يقول الرجل لغيره: بعت منك الثوب الذي في كمي هذا، والصفة كذا، أو الدرة التي في كفي وصفته كذا، أو لم يذكر الصفة، أو يقول: بعت منك هذه الجارية المتبقية."

(‌‌كتاب البيع، الفصل الثالث عشر: في خيار الرؤية، ج:6، ص:531، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں