بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ڈراموں میں صلیب لٹکانے کا حکم


سوال

مروجہ ترکش ڈراموں میں جو صلیب لٹکایا جاتا ہے،  شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ مذہبی رسومات میں تشبہ اختیار کرنا  حدیثِ  مبارک  کی رو سے  حرام ہے ؛لہذا کسی مسلم کا ڈراموں وغیرہ میں غیر مسلموں کی طرح صلیب لٹکانا ناجائز اور حرام ہے، بلکہ اس سے کفر کا قوی اندیشہ ہے ؛ اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔

الإعلام بقواطع الإسلام  میں ہے :

"و في الإنتصار: من تزيا بزي الكفار من لبس غيار أو شد زنار أو تعليق ‌صليب بصدره حَرُم ولم يكفر، وميل كلام بعضهم إلى الكفر، وفي الفصول: إن شهد عليه أنه كان يعظم الصليب مثل أن يقبله أو يتقرب بقربانات أهل الكفر ويكثر من دخول بيعهم وبيوت عباداتهم احتمل أنه ردة، وهو الأرجح؛ لأن المستهزئ بالكفر يكفر، ولأن الظاهر أنه يفعل ذلك عن اعتقاد."

(ص:۲۱۷،دارالتقوی)

سیرۃ المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے :

"تشبہ بالکفار اعتقادات اور عبادات میں کفر ہے، اور مذہبی رسومات میں حرام ہے، جیساکہ نصاری کی طرح سینہ پر صلیب لٹکانا اور ہنود کی طرح زنار باندھ لینا یا پیشانی پر قشقہ لگالینا، ایسا تشبہ بلا شبہ حرام ہے، جس میں اندیشہ کفر  کا ہے، اس لیے کہ علی الاعلان شعائر کفر کا اختیار کرنا اس کے رضاءِ قلبی کی علامت ہے۔"

(ج:۳،ص:۳۹۹،الطاف اینڈ سنز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں