بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دوزخ کے متعلق ایک روایت کی تخریج


سوال

اس حدیث کا مکمل حوالہ بتادیں ، جس میں ذکر ہے  جہنم کو انسانوں سے بھر نے کا ، جس میں اللّه پوچھتا ہے کہ اے جہنم کیا تو بھر گئی ؟ اور پھر اللّه کا جہنم پر اپنا  پیر ڈالنے کا ذکر  ہے۔ 

جواب

مذکورہ حدیث ، صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور مسند احمد وغیرہ کتب میں حضرت انس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنھما  سے مروی ہے، ذیل میں صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ درج ہیں: 

"عنْ أنسٍ رضي اللہ عنه : عن النبي صلی اللہ علیه وسلم قال: یُلْقَی في النارِ وتقولُ: هلْ منْ مزیدٕ، حتٰی یضَعَ قَدَمَه، فَتقُول: قَطْ قَطْ .

(صحیح بخاری ،کتاب التفسیر، باب: قوله : وتقول ھل من مزید 4 /1835، حدیث نمبر 4567، دار ابن کثیر ، ط: 1410ھ، 1990م ) 

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:   جہنمی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ یہی کہتی رہے گی : کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ رب تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھ دیں گے تو وہ کہے گی : بس بس (یعنی اب میں بھر گئی ) ۔   

    فقط          واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100666

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں