بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1445ھ 24 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

موبائل مىں فلميں اور ڈرامے ڈاؤن لوڈ کرکے دینے کی اجرت


سوال

ڈاؤن لوڈنگ والے جو موویز  اور  ڈرامے وغیرہ بھر کر دیتے ہیں ، یہ روزی کمانا حلال  ہے یا حرام؟

جواب

موبائل یا میموری کارڈ وغیرہ  میں فلمیں اور  گانے وغیرہ  ڈال کر دینا سخت گناہ کا کام ہے، یہ گناہ کے کام میں تعاون کرنا ہے،  وہ لوگ جب تک ان فلموں اور گانوں کو دیکھتے اور سنتے رہیں گے ، ڈاؤن لوڈ کرکے دینے والے کو  برابر گناہ ملتا رہے گا ، اور  چوں کہ یہ ایک گناہ کا کام ہے،  اس لیے  یہ کام کرنا اور اس کام کے بدلے  پیسے وصول کرنا بھی جائز نہیں  ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

{ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدۃ: 2]

ترجمہ:”  اور گناہ  اور زیادتی میں  ایک  دوسرے  کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ  اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والے ہیں۔“

(از بیان القرآن)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقَوْله تَعَالىٰ: {وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى} يَقْتَضِي ظَاهِرُهُ إيجَابَ التَّعَاوُنِ عَلَى كُلِّ مَا كان تَعَالَى؛ لِأَنَّ الْبِرَّ هُوَ طَاعَاتُ اللّٰهِ وقَوْله تعالى: {وَلاتَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ} نَهْيٌ عَنْ مُعَاوَنَةِ غَيْرِنَا عَلَى مَعَاصِي اللّٰهِ تَعَالىٰ".

(المائدة: آية: ٢، ٣ / ٢٩٦، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201893

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں