بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

’’دنیا کے دوستوں کی طرح پروردگار جب مان جاتا ہے تو پرانی باتیں کبھی یاد نہیں دلاتا ہے‘‘ کہنے والے کا حکم


سوال

زید  جو   حافظ  اور    امام   ہے  ،  نے  دورانِ تقریر  یہ  کہا : "اللہ  بہت  جلد  مان جاتا  ہے اور دنیا کے  دوستوں  کی طرح پروردگار جب مان جاتا ہے پرانی باتیں کبھی یاد نہیں دلاتا ہے "  زید کا جملہ : "دنیا کے  دوستوں  کی طرح پروردگار  جب مان جاتا ہے تو پرانی باتیں کبھی یاد نہیں دلا تا ہے،"  زید کا ایسا بولنا جائز ہے یا نہیں ، اگر جائز  نہیں  ہے تو  اس کی اقتدا  کا کیا حکم  ہے؟  اس جملے کے بعد جتنی نمازیں پڑھی گئی  ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟  بکر جو ایک عام مسلمان ہے کہتا ہے کہ اللہ تعالی کو دنیا کے دوستوں کی طرح کہنا کفر ہے کہ اللہ کی مثال دینا جائز نہیں کہ  {لیس کمثله شيء}، پھر دنیا کے  دوست کا ماننا اور  نہ  ماننا اللہ  کے  ماننے نہ  ماننے کی طرح  کیسے ہو سکتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  زید کا اللہ  تعالیٰ کے عفو و درگز کو بیان کرتے ہوئے بطور نظیر کے یہ کہنا ہے کہ جب اللہ راضی ہوجاتا ہے  تو وہ پرانی باتیں یاد نہیں دلاتا  جس طرح دوست جب راضی ہوجاتے ہیں تو وہ پرانی چیزیں یاد نہیں دلاتے، یہ  تفہیم کی غرض سے محض ایک نظیر ہے جس میں  دعوتی اور ترغیبی پہلو نمایاں ہے، اور اس میں اللہ  کے  لیے کسی مخلوق کے وصف کو ثابت نہیں کیا گیا ہے، اور یقینًا اللہ کے ماننے اور مخلوق کے ماننے میں زمین آسمان کا فرق ہے، لیکن نظیر اور  جس کی نظیر پیش کی جارہی ہو ان  میں  کلی مطابقت ضروری نہیں ہے،  لہذا یہ جملہ کہنے والا دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، اور اس کی اقتدا میں نماز بلاکراہت جائز ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200872

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں