بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا


سوال

کیا شوہر اپنی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرسکتا ہے؟

جواب

اسلام میں مرد کے لیے بصورتِ استطاعت (یعنی جسمانی اور مالی حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ان میں برابری کی قدرت کی صورت میں)  دوسری شادی بلکہ بیک وقت چار شادیوں تک کی اجازت ہے،  دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنا ضروری نہیں،البتہ اسے اعتماد میں لے کر دوسری شادی کرنا بہتر ہے تاکہ مستقبل میں اس حوالے سے پریشانی کا سامنا نہ  کرنا پڑے۔

           قرآن کریم میں ہے:

{فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ} [النِّسَآء:۴]

ترجمہ: اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلو ،دو دو عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے۔ (بیان القرآن)

            حدیث شریف میں ہے:

"عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل". 

( سنن أبي داود، كتاب النكاح، باب فى القسم بين النساءج:2،ص:297،ط:حقانية)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب  مائل (مفلوج) ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر".

 (3/ 48،  کتاب النکاح، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك".

(کتاب النکاح،  الباب الحادی عشر في القسم، ج:1،ص:341ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144501100636

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں