بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 شوال 1443ھ 20 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کی جائز صورت


سوال

2012 میں ایک لڑکی کا نکاح ہوا،ایک عرصہ بعد شوہر نے ایک طلاق   رجعی دے دی، علماء سے مشورہ کے بعد صلح ہوئی، اور شوہر نے رجوع کیا،2018 میں شوہر نے دوسری طلاق  بائن  دی، پھر علماء سے ہم نے رجوع کیا تو ان کے کہنے  پر پھر صلح ہوئی، اور دوبارہ نکاح ہوا،2019 میں پھر لڑائی ہوئی، بیوی اپنی بیٹی کو لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی،کمرہ بند کردیا اندر سے، شوہر نے دروازے کو لاتوں سے مارا، دروازہ نہ کھولنے پر  شوہر نے کہا:جا میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق طلاق ،آیا اس سے تین طلاقیں ہوگئی ہیں؟ اب واپس ساتھ رہنے کا شرعًا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں   بیوی پرتین  طلاقیں واقع ہوگئی ہیں وہ حرمتِ  مغلظہ  کے ساتھ شوہرپر        حرام ہوگئی   ہے  نکاح ختم ہو چکا ہے،   اب  شوہر  کے لیے نہ رجوع   جائز ہے اور نہ    دوبارہ نکاح   ہوسکتا ہے  ،البتہ اگر مطلقہ  بیوی   اپنی عدت گزار کر کسی  دوسرے شخص سے نکاح   کرے اور اس سے  صحبت  (جسمانی    تعلق) ہوجائے  اس کے بعد وہ دوسرا شوہر اسے   طلاق   دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے  تو اس کی عدت گزار کر  پہلے شوہر سے دوبارہ  نکاح    ہوسکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و إن‌‌ ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثًا ‌في ‌الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا و يدخل بها، ثم يطلقها، أو يموت عنها."

      (  کتاب الطلاق ،ج:1ص:473،ط رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100886

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں