بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

دوسرے ملک میں رہنے والے کی طرف سے قربانی کرنا جب کہ وہاں عید کا چوتھا دن ہو


سوال

میرے چچا ملک سے باہر ہے۔ انہوں نے مجھے اپنی طرف سے پاکستان میں قربانی کرنے کا کہا ہے۔ اگر میں ان کی طرف سے قربانی عید کے تیسرے دن کروں تو ان کے ہاں عید کا چوتھا دن ہو گاجبکہ ہمارا تیسرا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ تیسرے دن قربانی ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص قربانی کے لیے رقم کسی اور ملک میں بھیج دے، اور کسی کو قربانی کرنے کے لیے کہدے، تو اس طرح رقم بھیج کر دوسرے ممالک میں قربانی کرنا درست ہے، البتہ اتنی بات ضروری ہے کہ قربانی دونوں ممالک کے مشترکہ ایام میں ہو، یعنی جس دن قربانی کی جائےگی وہ دن دونوں ممالک میں قربانی کا مشترکہ دن ہو، ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں چچا کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں جب کہ پاکستان میں عید کا تیسرا دن ہو اور جہاں چچا رہتےہیں وہاں چوتھا دن ہوجائز نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وإن كان الرجل في مصر، وأهله في مصر آخر، فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة، فقال: ينبغي لهم أن لا يضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة - وقال الحسن بن زياد: انتظرت الصلاتين جميعا، وإن شكوا في وقت صلاة المصر الآخر انتظرت به الزوال، فعنده لا يذبحون عنه حتى يصلوا في المصرين جميعا، وإن وقع لهم الشك في وقت صلاة المصر الآخر لم يذبحوا حتى تزول الشمس، فإذا زالت ذبحوا عنه.

(وجه) قول الحسن: أن فيما قلنا اعتبار الحالين: حال الذبح وحال المذبوح عنه، فكان أولى. ولأبي يوسف ومحمد رحمهما الله أن القربة في الذبح، والقربات المؤقتة يعتبر وقتها في حق فاعلها لا في حق المفعول عنه، ويجوز الذبح في أيام النحر نهرها ولياليها؛ وهما ليلتان: ليلة اليوم الثاني وهي ليلة الحادي عشر، وليلة اليوم الثالث وهي ليلة الثاني عشر، ولا يدخل فيها ليلة الأضحى وهي ليلة العاشر من ذي الحجة؛ لقول جماعة من الصحابة - رضي الله عنهم -: أيام النحر ثلاثة، وذكر الأيام يكون ذكر الليالي لغة، قال الله - عز شأنه - في قصة زكريا - عليه الصلاة والسلام - {ثلاثة أيام إلا رمزا}، وقال عز شأنه في موضع آخر: {ثلاث ليال سويا}، والقصة قصة واحدة، إلا أنه لم يدخل فيها الليلة العاشرة من ذي الحجة؛ لأنه استتبعها النهار الماضي وهو يوم عرفة؛ بدليل أن من أدركها فقد أدرك الحج، كما لو أدرك النهار وهو يوم عرفة، فإذا جعلت تابعة للنهار الماضي لا تتبع النهار المستقبل، فلا تدخل في وقت التضحية، وتدخل الليلتان بعدها، غير أنه يكره الذبح بالليل؛ لا لأنه ليس بوقت للتضحية، بل لمعنى آخر ذكرناه في كتاب الذبائح، والله - عز شأنه - أعلم."

(كتاب التضحية، فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية، ج: 5، ص: 75،74، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101561

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں