بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

دوسرے ملک میں قربانی کروانا


سوال

میں کراچی میں رہائش پذیر ہوں، موجودہ حالات کے پیش نظر فرض قربانی نا ممکن سا لگ رہا ہے، ایسی صورت میں کیا میں اپنی قربانی کسی اور ملک میں کروا سکتا ہوں؟ 

میرے کزن موزمبیق میں رہتے ہیں، کیا میں انہیں اپنی قربانی کی رقم بجھوا کر وہیں قربانی کر واسکتا ہوں؟ کیا اس طرح میری قربانی قبول ہوگی؟

جواب

قربانی دوسرے ملک میں بھی کی جاسکتی ہے، البتہ کسی اور ملک میں اپنی جانب سے قربانی کروانے کے لیے ضروری یہ ہے کہ جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہو، اور جہاں قربانی کی جا رہی ہو، دونوں مقامات میں ایام نحر ہوں، پس اگر دونوں شہروں، ملکوں میں ایام نحر نہ ہوں تو قربانی ادا نہ ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ اپنی قربانی شرط بالا کی رعایت کے ساتھ  موزمبیق میں کرواسکتے ہیں، تاہم اگر خود قربانی کرنا ممکن ہو تو خود قربانی کرنا بہتر ہوگا، اور موجودہ احوال کے پیشِ نظر کراچی میں قربانی کے امکانات واضح نظر آرہے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201619

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں