بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بے روزگار شخص کے لیے وظیفہ


سوال

 میں 3 ماہ سے بے روزگار ہونے کی وجہ سے بہت پریشان ہوں ، میرے لیے استخارہ فرمائیں کہ میرے یہ حالات کب تک رہیں گے،  کیا اپنا کاروبار شروع کرنا بہتر رہے گا۔ 

جواب

استخارہ مستقبل کے کسی معاملہ کے بارے میں معلومات کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ کسی بھی معاملہ میں اللہ رب العزت سے خیر طلب کے لیے ہوتا ہے۔

روزگار کے حصول اور اس میں برکت کے لیے آپ   پانچوں نماز کا باجماعت اہتمام کریں اور گناہوں سے مکمل اجتناب کریں،  اور ہر فرض نماز کے بعد پہلے گیارہ دفعہ درود شریف پڑھیں، پھر سو دفعہ   "حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"  پڑھیں  ،پھر گیارہ دفعہ درود شریف پڑھیں، اسی طرح ہر فرض نماز کے بعد مذکورہ وظیفہ کا اہتمام  کریں، پھر عشاء کی نماز کے بعد جب یہ وظیفہ  پڑھ  چکیں  تو  خوب  دل لگا  کر ا للہ رب العالمین کی بارگاہ  میں دعا کریں اور اپنے جائز  مقاصد اور روزگارکے  لیے لیے خوب مانگیں ،ان شاءاللہ  اللہ تبارک  و تعالی فضل  و کرم  فرمائیں  گے ، نیز صبح اور شام سورۂ واقعہ اور سورۂ طارق  پڑھنے کا اہتمام کریں۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے :

"عن ابن عباس "حسبنا الله و نعم الوكيل" قالها إبراهيم عليه السلام حين ألقي في النار، و قالها محمد صلى الله عليه وسلم حين قال لهم الناس: إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم، فزادهم إيمانا، وقالوا: حسبنا الله ونعم الوكيل ... عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا وقعتم في الأمر العظيم فقولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل" هذا حديث غريب من هذا الوجه."

(سورة آل عمران: ج: 2 ص: 149 / 150 ط: دارالکتب العلمية)

"ترجمہ :حضرت عبدالله ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ "حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ "، یعنی الله تعالی ہمارے  لیے کافی ہیں اور بہترین کارساز ہیں،یہ جملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جس وقت ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور ( یہی کلمہ) ہمارے آخری نبی وپیغمبر فداہ اُمّی وابی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہا تھا جب لوگوں نے (مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے) کہا کہ بے شک لوگوں نے تمھارے لئے (فوج) جمع کرلی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس (بات) نے انھیں ایمان میں زیادہ کردیا اور انھوں نے کہا: "حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"  یعنی الله تعالی ہمارے  لیے کافی ہیں اور بہترین کارساز ہیں ... حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تمہیں  اہم کام درپیش ہوتو"حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ "پڑھو۔"

فتاوی شامی میں ہے :

"وحراما، وهو علم الفلسفة والشعبذة والتنجيم والرمل وعلوم الطبائعيين والسحر والكهانة.  

(قوله: والكهانة) وهي تعاطي الخبر عن الكائنات في المستقبل وادعاء معرفة الأسرار. قال في نهاية الحديث: وقد كان في العرب كهنة كشق وسطيح، فمنهم من كان يزعم أن له تابعا يلقي إليه الأخبار عن الكائنات، ومنهم أنه يعرف الأمور بمقدمات يستدل بها على موافقها من كلام من يسأله أو حاله أو فعله وهذا يخصونه باسم العراف كالمدعي معرفة المسروق ونحوه، وحديث " من أتى كاهنا " يشمل العراف والمنجم. والعرب تسمي كل من يتعاطى علما دقيقا كاهنا، ومنهم من يسمي المنجم والطبيب كاهنا اهـ ابن عبد الرزاق".

(مقدمة الكتاب ج: 1 ص: 43 / 45  ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102397

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں