بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 صفر 1442ھ- 22 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران لفظ ض ادا کرتے وقت د کی آواز نکالنا


سوال

نماز میں کچھ لوگولضآلینampکو ادا کرتے وقت دال کی آواز نکالتے ہیں اور آج تک امام کعبہ کی زبان سے بھی یہی سنا ہے تو اس کا کیا مطلب ؟اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آسانی کے لیے ہے ، اس کا مطلب ہم اردو میں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں ؟

جواب

فظ ض کو صحیح ادا کرنے کے لیے ماہرِ تجوید قاری کی ضرورت ہوتی ہے ،اس کا صحیح فرق براہِ راست مشق ہی سے سمجھا جا سکتا ہے ،البتہ عوام کو یہ معلوم ہونا کافی ہے کہ لفظ ض کی ادائیگی میں ظ کی آواز نکلنے یادکی دونوں صحیح ہیں اور دونوں طرح پڑھنے والوں کی نمازہو جاتی ہے یہ دونوں لفظ عربی کے ہیں ،نماز میں غیر عربی قرأت جائز نہیں ہے ۔ بصورت دیگر نماز نہیں ہو گی ۔


فتوی نمبر : 143101200034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں