بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

دوران حمل ونفاس حقوق زوجیت کی ادائیگی


سوال

lrm lrmالسلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ 1اگر کسی کی بیوی حاملہ ہو تو ان کی ساتھ کتنی مہینے تک ہمبستری کرسکتے ہیں اور 2 یہ کہ اگر بیوی نفاس کی حالت میں ہو تو ان کے ساتھ بوس وکنار وغیرہ جایز ہے اور اگر شوہر کو شہوت تنگ کرے تو اپنی بیوی کی ہاتھوں سے شہوت نکالنا جایز ہے یا نہیں اور ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے جب شہوت تنگ کرے اور 3 یہ اگر کویی شخص شادی کے رات آلہ تناسل پر زیتون کا تیل لگانا جایز ہے، کوئی گناہ تو نہیں ہے اور4 یہ کہ شادی کا رات سنت کا طریقہ بھی بتاییے، مھربانی کیجے جواب ضرور فرمادیں faridshah29yahoo.com

جواب

دوران حمل کبھی بھی بیوی کے ساتھ ھمبستری کرنا شرعا جائز ہے، البتہ طبی اعتبار سے حاملہ یا حمل کی حفاظت کے لیئے کسی دیندار طبیب کا مشورہ احتیاط کا ہو تو احتیاطا ھمبستری نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔2 بیوی سے نفاس کی حالت میں ناف سے گھٹنے تک کے جسم کے علاوہ باقی پورے جسم سے لطف اندوز ہونا، بوس وکنار کرنا، اور اس کے جسم کے باقی اعضاء نیز اس کے ہاتھوں کے مساس سے انزال کروانا جائز ہے۔ 3 جائز ہے۔ 4 شادی کے بعد کے مراحل کا مسنون طریقہ اور ادب جاننے کے لیئے بھتر ہے کہ کسی عالم دین سے براہ راست ملاقات کرکے ان چیزوں کو سیکھ لیا جائے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143507200008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں