بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1443ھ 05 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

دوران اعتکاف تبلیغی امور بجالانے اور بچوں کو پڑھانے کا حکم


سوال

کیااعتکاف کے دوران مسجد کی حدود میں درجہ ذیل کام کیے جاسکتے ہیں مسجد دھونا، تبلیغی مشورے میں بیٹھنا،اعلان کرنا،بیان کرنا،کسی کو دعوت دینا،بچوں کو سبق پڑھنا وغیرہ۔

جواب

اعتکاف کا  مقصد دنیوی امور سے  فارغ ہوکر محض اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوکر  شبِ قدر تلاش کرنا اور اس کی فضیلت کو حاصل کرنا ہے اور اپنے آپ کو اس جگہ میں محصور کرکے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرے کہ اے اللہ جب تک رمضان  المبارک کا مہینہ ختم نہ ہوجائے میں یہی رہوں گا، اس وجہ سے شدید ضرورت کے بغیر جائے اعتکاف سے باہر نکلنا اس عہد کے خلاف شمار ہوتا ہے،   لہذا اعتکاف کے دوران ہر ایسا کام ترک کردینا چاہیے جسے اعتکاف کا مقصد متاثر ہوجاتا  ہے ، اور  معتکف کو چاہیے کہ وہ نماز، تلاوت، ذکر و اذکار، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادات میں اپنا زیادہ وقت گزارے۔

1: بصورتِ مسئولہ جائے اعتکاف میں رہ کرکے مسجد کو دھونا جائز ہے۔

2: دورانِ اعتکاف  مسجد کی حدود میں تبلیغی بیان کرنا، مسجد میں لوگوں کو دعوت دینا، مشورے میں بیٹھنا  اعتکاف کے منافی نہیں ہے، لہذا دورانِ اعتکاف ان امور کو بجالانا جائز ہے۔

3:معتکف کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر  بچوں کو پڑھانا مکروہ ہے، اور بغیر اجرت کے اللہ کی رضا کے لیے تعلیم دینا جائز اور ثواب کا کام ہے، البتہ اگر معلم اعتکاف میں بیٹھا ہو اور اس کا گزارا صرف تعلیم پر ہی ہوتا ہو اس کے علاوہ اس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے یا وہ مدرسہ کا تنخواہ دار ملازم ہے اور اسے وہاں سے چھٹی نہیں مل رہی یا کوئی اور مجبوری ہے ایسے شخص کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر تعلیم دینے کی گنجائش ہے۔

المبسوط للسرخسي  میں ہے:

"وفي الاعتكاف تفريغ القلب عن أمور الدنيا وتسليم النفس إلى بارئها والتحصن بحصن حصين وملازمة بيت الله تعالى (قال) عطاء مثل المعتكف كمثل رجل له حاجة إلى عظيم فيجلس على بابه، ويقول: لا أبرح حتى تقضي حاجتي والمعتكف يجلس في بيت الله تعالى، ويقول: لا أبرح حتى يغفر لي فهو أشرف الأعمال إذا كان عن إخلاص." 

(باب الاعتكاف، ج:3، ص:115، ط:ادارة القرآن )

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد، ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس فى آداب المسجد، ج:5، ص:321، ط:مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201842

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں