بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1443ھ 05 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

دورانِ اعتکاف موبائل میں قرآن پڑھنے کا حکم


سوال

کیا دوران اعتکاف موبائل فون پڑھنے کے  لیے  استعمال کر سکتے  ہیں؟

جواب

دورانِ اعتکاف موبائل میں قرآن مجید پڑھنا جائز ہے، لیکن قرآنِ مجید مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے، اس لیے کہ مصحف کو دیکھنا، اس کو چھونا اور اس کو اٹھانا  یہ اس کا احترام ہے،  اور اس میں معانی میں زیادہ تدبر کا موقع ملتا ہے،  اور یہ سب ثواب کا ذریعہ ہے،  ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں موبائل میں حاصل نہیں ہوتیں،  اور زیادہ ثواب والے کام  کو  چھوڑ  کر  کم ثواب والے کام کو اختیار کرنا خلافِ  اولی اور خلافِ تقوی ہے؛  اس لیے جہاں تک ہوسکے مصحف ہی سے پڑھا جائے، اگر کبھی ضرورت ہو تو موبائل سے پڑھ لیں،  ورنہ عام حالات خصوصاً مسجد میں دورانِ اعتکاف   جہاں سہولت سے قرآن میسر بھی ہیں،  وہاں موبائل کے بجائے مصحف سے قرآنِ مجید پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاہم ثواب میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ نیز قرآنِ کریم کے ادب کا تقاضا یہ بھی ہے کہ موبائل میں غیر شرعی اشیاء (جان دار کی تصاویر اور ویڈیوز ، موسیقی وغیرہ)  محفوظ نہ رکھی جائیں۔ لہٰذا ایسی آن لائن ایپلی کیشن جس پر قرآن مجید پڑھنے کے دوران جان داراشیاء کی تصویر پر مشتمل اشتہار آجاتے ہوں، وہ استعمال ہی نہ کی جائے، بلکہ آف لائن ایپ استعمال کی جائے۔

نیز جس وقت موبائل کی اسکرین پر قرآنِ مجید کھلا ہوا ہو، اس وقت اسکرین مصحف کے صفحے کے حکم میں ہے، لہٰذا اسے بغیر وضو کسی پاک چیز حائل کیے بغیر چھونے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ موبائل کے دیگر حصوں کو بے وضو چھونے کی بھی اجازت ہوگی۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201857

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں