بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

دورانِ روزہ حیض کے بعد امساک کا حکم


سوال

ایک عورت اگر روزہ رکھے اور دن میں کسی بھی وقت ماہ واری آجائے،  10 بجے ہو  دن کے یا دوپہر میں تو کیا اس کے بعد افطار سے پہلے کھا پی سکتی ہے؟ کوئی حرج تو نہیں؟

جواب

اگر عورت نے روزہ رکھ لیا اور اسے دن کے دوران حیض کا خون آگیا تو  یہ روزہ فاسد ہوجائے گا اور اس کے بعد اس کے لیے دن میں کھانا پینا جائز ہے، کیوں کہ حیض کے  ایام میں روزہ رکھنا منع ہے، اس حالت میں عورت کے لیے روزہ دار کی مشابہت اختیار کرنے کا حکم نہیں ہے، نیز بقیہ جن دنوں میں حیض آرہا ہے ان دنوں میں روزہ نہ رکھے۔

"وأما في حالة تحقق الحیض و النفاس فیحرم الإمساك؛ لأن الصوم منهما حرام، والتشبه بالحرام حرام". (طحطاوی علی المراقی : ص : ۳۷۰ ) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے