بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

دوران نماز مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگی ہوئی ڈیجیٹل گھڑی میں دیکھ کر قرآنی آیت پڑھنے کا حکم


سوال

ہمارے یہاں مسجد میں قبلہ کی طرف جو دیوار ہے اس میں ٹی وی نما ڈیجیٹل گھڑی لگائی گئی ہے، جس میں تمام نماز کے اوقات کے ساتھ ساتھ ہر نماز میں روزانہ الگ الگ آیات قرآنی یا احادیث عربی اور مقامی زبان میں دکھائی جاتی ہیں۔

1)تو میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا ایسی ہر نماز کے لیے الگ الگ آیات واحادیث دکھانے والی گھڑی قبلہ کی طرف والی دیوار میں لگانا درست ہے؟

2)اگر کوئی شخص دوران نماز گھڑی میں دکھائی جانے والی آیت یا حدیث پڑھ لے تو اس کی نماز کا حکم کیا ہے؟

3) ایسی ڈیجیٹل گھڑی کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ اس کو مسجد میں لگانا چاہیے یا نہیں؟اگر لگانے کی گنجائش ہے تو کہاں لگانا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد میں قبلہ کی دیوار یا محراب پر اس قسم کا نقش و نگار کرنا جس سے نماز ی کے خشوع و خضوع میں خلل پیدا ہو مکروہ ہے۔

1۔لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالا ڈیجیٹل گھڑی کا مسجد کی قبلہ والی دیوار پر لگانا مکروہ ہے، کیوں کہ  اس سےنمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہونے کا قوی اندیشہ ہے اس لیے یہ بھی کراہت میں داخل ہے۔

2۔نیزاگر کوئی شخص نماز کے دوران  مذکورہ گھڑی میں دکھائی جانے والی آیات یا احادیث اپنے قصد وارادہ سے الفاظ ادا کیے بغیر محض دل ہی دل میں پڑھے تو اس سے نماز مکروہ ہوجائے گی ،اور اگر  زبان سے لکھے ہوئے الفاظ کو ادا بھی کر لیا تو اس سے نماز ہی فاسد ہو جائے گی۔ 

3۔ اوقاتِ نماز کی ضرورت کے پیش نظر مساجد میں ڈیجیٹل گھڑی کا استعمال درست ہے اور یہ گھڑی بھی اوپر ایسی جگہ لگائی جائے کہ نمازیوں کی نگاہ دورانِ نماز نہ پڑے،البتہ آیات و احادیث اور ترجمہ وغیرہ دکھائی جانے والی گھڑی قبلہ کی دیوار پر لگانا کراہت سے خالی نہیں ہے، ایسی گھڑی قبلہ کی دیوار کےعلاوہ  دائیں یا بائیں جانب لگائی جائے،اور اگر بالفرض قبلہ کی دیوار میں  لگائی جائے اور نماز کے دوران اس میں دکھائی جانے والی آیات و احادیث کو بند کردیا جائے تو بھی درست ہے، البتہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ  نماز کے دوران نمازی کا جان بوجھ کر قبلہ کی طرف گھڑی (چاہے وہ ڈیجیٹل ہو یاغیر ڈیجیٹل)میں وقت یا کسی بھی دوسری چیز کودیکھنا مکروہ ہے، اس عبث فعل سے اجتناب کرنا چاہیے، حالتِ قیام میں اپنی نظر سجدہ کی جگہ پر، حالتِ رکوع میں قدموں پر ، سجدہ میں ناک پر ،اور حالتِ قعدہ میں اپنی گود پرنظر رکھنی چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا بأس بنقشه خلا محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي. ويكره التكلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصا في جدار القبلة قاله الحلبي. وفي حظر المجتبى: وقيل يكره في المحراب دون السقف والمؤخر انتهى. وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة فليحفظ".

وفي الرد:"(قوله ولا بأس إلخ) في هذا التعبير كما قال شمس الأئمة: إشارة إلى أنه لا يؤجر، ويكفيه أن ينجو رأسا برأس. اهـ(قوله لأنه يلهي المصلي) أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب: كلمة "لا بأس" دليل على أن المستحب غيره لأن البأس الشدة، 1/ 658، ط: سعید)

وفيه أيضاً :

"(ولا يفسدها نظره إلى مكتوب وفهمه) ولو مستفهما وإن كره".

وفيه الرد: "(قوله ولو مستفهما) أشار به إلى نفي ما قيل إنه لو مستفهما تفسد عند محمد. قال في البحر: والصحيح عدمه اتفاقا لعدم الفعل منه ولشبهة الاختلاف. قالوا: ينبغي للفقيه أن لا يضع جزء تعليقه بين يديه في الصلاة لأنه ربما يقع بصره على ما فيه فيفهمه فيدخل فيه شبهة الاختلاف اهـ أي لو تعمده لأنه محل الاختلاف (قوله وإن كره) أي لاشتغاله بما ليس من أعمال الصلاة، وأما لو وقع عليه نظره بلا قصد وفهمه فلا يكره ط".

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،1/ 634، ط: سعید)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وكره بعض مشايخنا النقوش على المحراب وحائط القبلة؛ لأن ذلك يشغل قلب المصلي، وذكر الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى - في شرح السير الكبير أن نقش الحيطان مكروه قل ذلك أو كثر".

(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، 5/ 319، ط: رشيدية)

البحرالرائق میں ہے :

"( قوله: ولو نظر إلى مكتوب وفهمه أو أكل ما بين أسنانه أو مر مار في موضع سجوده لاتفسد وإن أثم )، أما الأول فلأن الفساد إنما يتعلق في مثله بالقراءة وبالنظر مع الفهم لم تحصل وصحح المصنف في الكافي أنه متفق عليه بخلاف من حلف لايقرأ كتاب فلان فنظر إليه وفهمه فإنه يحنث عند محمد؛ لأن المقصود فيه الفهم والوقوف على سره أطلق المكتوب فشمل ما هو قرآن وغيره لكن في القرآن لاتفسد إجماعاً بالاتفاق كما في النهاية وشمل ما إذا استفهم أو لا لكن إذا لم يكن مستفهماً لاتفسد بالإجماع وإن كان مستفهماً ففي المنية تفسد عند محمد والصحيح عدمه اتفاقاً لعدم الفعل منه ولشبهة الاختلاف، قالوا: ينبغي للفقيه أن لايضع جزء تعليقه بين يديه في الصلاة؛ لأنه ربما يقع بصره على ما في الجزء فيفهم ذلك فيدخل فيه شبهة الاختلاف ا هـ".

(البحرالرائق، باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا، ج:2،ص:15، ط:دارالمعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(نظره إلى موضع سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه حال ركوعه، وإلى أرنبة أنفه حال سجوده، وإلى حجره حال قعوده. وإلى منكبه الأيمن والأيسر عند التسليمة الأولى والثانية)؛ لتحصيل الخشوع".  

’’(قوله: لتحصيل الخشوع) علة للجميع؛ لأن المقصود الخشوع وترك التكليف، فإذا تركه صار ناظراً إلى هذه المواضع قصد أو لا، وفي ذلك حفظ له عن النظر إلى ما يشغله، وفي إطلاقه شمول المشاهد للكعبة؛ لأنه لا يأمن ما يلهيه، وإذا كان في الظلام أو كان بصيراً يحافظ على عظمة الله تعالى؛ لأن المدار عليها، وتمامه في الإمداد. وإذا كان المقصود الخشوع، فإذا كان في هذه المواضع ما ينافيه يعدل إلى ما يحصله فيه."

(كتاب الصلاة، ج: 1، ص:477، ط:سعيد)

فقط والله تعالى اعلم بالصواب والسداد


فتوی نمبر : 144501101781

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں