بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

دورانِ نماز جوتے کا سامنے ہونا


سوال

اگر دورانِ نماز جوتا جائے نماز کے سامنے یا دائیں بائیں پڑا ہو تو کیا اس سے نماز نہیں ہو گی؟ میری زوجہ جو بریلوی مسلک سے ہیں عقیدہ رکھتی ہیں کہ نماز نہیں ہوتی. اس حوالے سے وضاحت فرما دیں!

جواب

دورانِ نماز اگر جائے نماز کے دائیں یا بائیں یا سامنے کوئی جوتا پڑا ہوا ہو تو اس سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا، نماز درست ہو جاتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مسجد میں جوتے لے جانا اور پاؤں کے درمیان یا ساتھ رکھنا ثابت ہے، ظاہر ہے جوتا کسی کے دائیں ہوگا، کسی کے بائیں اور پچھلی صف والوں کے آگے، لہٰذا اس سلسلے میں شک نہیں کرنا چاہیے، اور جوتے کے سامنے ہونے کی صورت میں اسے سجدہ کرنا مقصود نہیں ہوتا۔

البتہ اگر جوتے پر کوئی نجاست لگی ہوئی ہو تو اسے پاک کرکے مسجد میں لایا جائے۔

آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:

"س… مسجد میں لوگ اکثر اپنے جوتے صفوں کے آگے رکھتے ہیں، اور عموماً جب لوگ سجدہ کرتے ہیں تو آگے جوتے پڑے ہوتے ہیں، ایسی صورت میں نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

ج…نماز ہوجاتی ہے، جوتوں پر اگر نجاست لگی ہو تو ان کو صاف کرکے مسجد میں لانا چاہیے۔"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200226

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں