بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دوران نماز گلہ کھنکارنے کاحکم


سوال

میں نے ایک مفتی صاحب کے بیان میں سنا ہے جو حضرت یوسف بنوری رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں کہ نماز میں گلہ کھنکار نے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ کھانسنے کی اجازت ہے ۔ میرے برابر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز کے دوران انہوں نے 4یا 5 مرتبہ گلہ کھنکارا، نماز کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے گلے میں کوئی مسئلہ ہے؟ کہنے لگے نہیں تو میں نے کہا کہ فلاں مفتی صاحب کہتے ہیں کہ نماز فاسد ہو جاتی ہے، تو کہنے لگے کہ کسی کو مجبوری ہو تو میں نے کہا کہ کھانسنے کی اجازت ہے ۔ کیا انہیں نماز دوبارہ پڑھنی چاہیئے تھی۔

جواب

صورت مسئولہ میں گلہ کھنکارنا دوران نماز مکروہ ہے اس سے اجتناب کیا جائے البتہ اس کھنکارنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔ رہا کھانسنے کا معاملہ تو حتی الامکان کھانسی پر قابو رکھا جائے اس کے باوجود اگر قدرت نہ رہے تو کھانسنے میں کوئی حرج نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200347

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں