بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

دوران ملاعبت شرم گاہ سے نکلنے والے پانی کا حکم


سوال

بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے وقت بیوی کی شرم گاہ سے جو پانی نکلتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

میاں بیوی کے باہم ملاعبت کرتے وقت شرم گاہ سے جو سفید   پتلا پانی بغیر شہوت اور دفق  کے خارج ہوتا ہے، وہ ناپاک ہے ،  اس کے خارج ہونے کی وجہ سے   غسل  لازم نہیں ہوتا ، البتہ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

عمدۃ القاری میں ہے:

"وهو الماء الرقيق الذي يخرج عند الملاعبة والتقبيل وقال ابن الأثير هو البلل اللزج الذي ‌يخرج ‌من ‌الذكر عند ملاعبة النساء ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو في النساء أكثر منه في الرجال."

(كتاب العلم، ج:2، ص:215، ط:دار إحياء التراث العربي)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقي الفلاح میں ہے:

"منها مذي.... وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال.ويسمى في جانب النساء قذى بفتح القاف والدال المعجمة. "و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لايجب الغسل بخروج المذي والودي".

( كتاب الطهارة، فصل: عشرة أشياء لايغتسل، 1 /100، ط: دار الكتب العلمية)

 الدر المختار میں ہے:

"(لا) عند (مذي أو ودي) ‌بل ‌الوضوء ‌منه ‌ومن ‌البول ‌جميعا على الظاهر".

(کتاب الطهارۃ، 1 /165، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں