بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

دورِ نبوی میں شلوار استعمال ہونے کی تحقیق نیز شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا


سوال

حدیث شریف میں مذکور ہے کہ شلوار کو ٹخنوں کے نیچے کرنا گناہ ہیں، تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شلوار ہوتی تھی، یا اس دور میں صرف کرتہ پہنتے تھے؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِزار ٹخنوں سے نیچے کرنے سے منع فرمایا ہے، بلکہ از روئے حدیث  تکبر کے انداز میں  کوئی بھی کپڑا لٹکانا ممنوع ہے، لہٰذا حدیث شریف میں صرف شلوار ٹخنوں سے نیچے کرنا ممنوع نہیں ہے، بلکہ جو بھی لباس  (تہہ بند یا شلوار، جبہ، چادر  وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکے، مردوں کے لیے ایسی وضع ممنوع ہے۔

جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے لباس کی بات ہے تو آپ ﷺ  کے استعمال کردہ لباس میں عام طور پر ازار (تہبند)  کا ذکر ملتاہے، شلوار کا استعمال صراحۃً   تو نہیں ملتا تاہم حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شلوار کا خریدنا ثابت ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شلوار پسند بھی اسی وجہ سےفرمائی کہ اس میں ستر کا لحاظ زیادہ ہے،  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے شلوار کا استعمال ثابت ہے، اس بنا  پر ازار / پاجامہ دونوں لباسوں کو سنت سے ثابت شدہ لباس کہا جاتا ہے؛  لہذا اس کا استعمال اگرچہ صراحتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملتا،  تاہم اس دور میں تہبند کی طرح شلوار بھی مستعمل تھا،یعنی مرد حضرات کے لیے لباس کو ٹخنے سے نیچے لٹکانا منع ہے، چاہے وہ ازار ہو یا شلوار ہو  ، جبہ ہو یا کُرتا ، سب کا حکم ایک ہے۔

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: «دخلت يومًا السوق مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس إلى البزازين، فاشترى سراويل بأربعة دراهم، وكان لأهل السوق وزان يزن، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اتزن وأرجح "، فقال الوزان: إن هذه لكلمة ما سمعتها من أحد، فقال أبو هريرة: فقلت له: كفى بك من الرهق والجفاء في دينك ألا تعرف نبيك؟ فطرح الميزان ووثب إلى يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد أن يقبلها، فحذف رسول الله صلى الله عليه وسلم يده منه فقال: " ما هذا؟ إنما يفعل هذا الأعاجم بملوكها ولست بملك إنما أنا رجل منكم ". فوزن وأرجح وأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم السراويل، قال أبو هريرة: فذهبت لأحمله عنه فقال: " صاحب الشيء أحق بشيئه أن يحمله إلا أن يكون ضعيفاً فيعجز عنه فيعينه أخوه المسلم ". قال: قلت: يا رسول الله وإنك لتلبس السراويل؟ قال: " أجل في السفر والحضر، وفي الليل والنهار، فإني أمرت بالستر فلم أجد شيئا أستر منه»".

(کتاب اللباس، باب فی السراویل، رقم الحدیث:8510، ج:5، ص:121، ط:مکتبۃ القدسی)

ترجمہ: ’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن بازار گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑافروش کے پاس گئے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار درہم میں ایک شلوار (پاجامہ) خریدی، بازار والوں کے پاس ایک ترازو تھا جس سے وہ سامان وغیرہ وزن کیا کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو کہا کہ دیکھو! ذرا جھکتا تولا کرو، تو لنے والے نے کہا کہ یہ ایسا کلام ہے کہ میں نے کسی سے نہیں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موجود تھے، انہوں نے کہا کہ تو کیا کہہ رہا ہے، تیرا دین اور دنیا سب برباد ہوجائے گا! کیا تم نہیں جانتے کہ یہ تیرے پیغمبر ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے ترازوکو چھوڑ دیا اور فوراً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی طرف بوسہ دینے کے لیے جھپٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ کو کھینچ لیا اور فرمایا کہ یہ عجمی بادشاہوں کا طریقہ ہے، ارے! میں تو تمہاری ہی طرح کا آدمی ہوں، ہاں! تم جھکا کر تولا کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاجامہ لے لیا، حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آگے بڑھا کہ میں اُٹھالوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صاحبِ سامان اس کے اُٹھانے کا زیادہ حق دار ہے ، ہاں! اگر کمزور ہو، ضعیف ہو تو مسلمان کو اس کی مدد کرنی چاہیے، پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا (چوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو لنگی باندھتے تھے) کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاجامہ پہنتے ہیں؟ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاجامہ خریداتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات میں بھی، دن میں بھی، سفر میں بھی، حضر میں بھی مجھے ستر پوشی کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406102165

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں