بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

دوران عدت عورت کا موبائل فون استعمال کرنے کا حکم


سوال

کیا دورانِ عدت موبائل فون استعمال کیا جاسکتا ہے ؟اور فون پر اگر بات جائز نہ ہو تو میسج پر کی جاسکتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کوئی شرعی مانع (مثلاً غیرمحرم سےگفتگووغیرہ)نہ ہوتو عدت کے دوران  عورت کا جائز مقاصد کے لئے موبائل استعمال کرنا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"على المبتوتة والمتوفى عنها زوجها إذا كانت بالغة مسلمة الحداد في عدتها كذا في الكافي. والحداد الاجتناب عن الطيب والدهن والكحل والحناء والخضاب ولبس المطيب والمعصفر والثوب الأحمر وما صبغ بزعفران إلا إن كان غسيلا لا ينفض ولبس القصب والخز والحرير ولبس الحلي والتزين والامتشاط كذا في التتارخانية."

(كتاب النكاح، الباب الرابع عشر في الحداد، ج:1، ص:533، ط:دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا ‌يكلم ‌الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى، وبه بان أن لفظه لا في نقل القهستاني، ويكلمها بما لا يحتاج إليه زائدة فتنبه.

وفي الرد:أن صوت المرأة عورة على الراجح."

(كتاب الحظر والاباحة، فصل في النظر واللمس، ج:6، ص:369، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144404101739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں