بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دودھ پلانے والی عورت کے لیے روزے کا حکم


سوال

ایک ماہ ہوا ہے بچہ پیدا ہوا ہے، تو کیا دودھ پلانے والی ماں روزہ رکھ سکتی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ماں کے لیے روزہ رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، تاہم دودھ پلانے والی عورت کو ظنِ غالب ہو کہ روزہ رکھنے  کی صورت میں خود اس کی یا بچے کی صحت کو خطرہ ہوسکتا ہے یا کوئی مسلمان، دین دار (روزے کی اہمیت کو سمجھنے والا) ڈاکٹر اس حالت میں ماں یا بچے کو نقصان ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے تو دودھ پلانے کے زمانہ میں روزہ چھوڑنا جائز ہوگا، اور جتنے روزے چھوڑے ہوں بعد میں ان کی قضا رکھنا لازم ہوگا۔

حدیث مبارکہ میں ہے:

"عن أنس بن مالك، قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للحبلى التي تخاف على نفسها أن تفطر، وللمرضع التي تخاف على ولدها".

(سنن ابن ماجه، باب ما جاء في الإفطار للحامل والمرضع، ج:2، ص:576، رقم الحدیث:1668، ط:دار الرسالة العالمية)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"وقال في الاصل: إذا خافت الحامل أو المرضع على أنفسهما أو على ولدهما جاز الفطر و عليهما القضاء".

(کتاب الصوم، ج:2، ص:384، ط:إدارة القرآن و العلوم الإسلامية)

البحرالرائق میں ہے:

"(قوله:وللحامل والمرضع اذا خافتا علي الولد او النفس)اي لهماالفطر دفعاللحرج ولقوله صلي الله عليه وسلم "ان الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحامل والمرضع الصوم"قيدبالخوف بمعني غلبة الظن بتجربة اواخبار طبيب حاذق مسلم كما في الفتاوي الظهيرية".

(كتاب الصوم، باب مايفسد الصوم وما لايفسده، فصل في عوارض الفطر في رمضان، ج:2، ص:307، ط:دارالكتاب الاسلامي)

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: 

"قوله: ويجوز الفطر لحامل ومرضع خافت۔۔۔ والخوف المعتبر لاباحة الفطر طريق معرفته امران احدهما:ماكان مستندا فيه لغلبة الظن فانها بمنزلة اليقين بتجربة سابقة والثانية: قوله او اخبار طبيب مسلم حاذق عدل بداء".

وفي هامشه:

"قوله (ويجوز الفطر لحامل) هي التي في بطنها حمل بفتح الحاء أي ولد۔۔۔قوله(مسلم)جري علي التقييد بالاسلام في الظهيرية حيث قال:وهوعندي محمول علي المسلم دون الكافر،كمسلم شرع في الصلاة بالتيمم فوعده كافر بالماء لايقطع فلعل غرضه افساد الصلاة عليه فكذافي الصوم۔۔۔قوله(حاذق)له معرفة تامة في الطب فلايجوز تقليدمن له ادني معرفة فيه۔قوله(عدل) جزم باشتراط العدالة الزيلعي".

(كتاب الصوم ، باب ما يفسد الصوم ويوجب القضاء، فصل في العوارض، ص:684-685، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144509100903

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں