بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر اسرار کی تفسیر سے استفادہ حاصل کرنا کیسا ہے؟


سوال

میں قرآن سیکھنے اور سمجھنے کے لئے "ڈاکٹر اسرار احمد" کی یہ والی تفسیر "بیان القرآن" جو کہ "سات جلدوں" پر مشتمل ہے خریدنے کا ارادہ کر رہا ہوں، رہ نمائی فرمائیں۔

جواب

ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم مستند عالم دین نہیں ہیں ، ان کے بعض افکار و نظریات قرآن ، حدیث اور اجماعِ امت کے خلاف ہیں، ان کی طرزِ فکر سےاختلاف کے ساتھ ان کی تحریرات سے استفادہ کی گنجائش اگرچہ ہے، لیکن عوام یا دینی علوم سے ناواقف افراد  چوں کہ ڈاکٹر صاحب  کے صحیح اور  قابلِ اشکال افکار کے درمیان تمییز و فرق کرنے کی صلاحیت  نہیں رکھتے ہیں؛ لہذا عوام اور نا پختہ افراد کے لیے ڈاکٹر صاحب  کے بیانات سننے ،کتابیں پڑھنےاور  تفسیر سے استفادہ  کرنامناسب نہیں  ہے، ڈاکٹر صاحب مرحوم کی تفسیر کے بجائےتفسیر " ہدایت القرآن" مفتی سعید احمد پالنپوریؒ یا "معارف القرآن" مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانامفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کو مطالعہ کیا جائے، زیادہ مفید ہے اور انداز بھی سہل ہٍے اس سے استفادہ کیا جائے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن ابن سيرين قال: ‌إن ‌هذا ‌العلم ‌دين فانظروا عمن تأخذون دينكم. رواه مسلم."

(كتاب العلم، الفصل الثالث، رقم الحديث:273، ج:1، ص:90، ط: المكتب الاسلامي)

ترجمہ :" محمد بن سیرین مشہور تابعی سے منقول ہے  کہ:  یہ علم،  دین ہے ، پس تم دیکھ کہ کس شخص سے  اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔"

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن ابن سيرين) : وهو محمد بن سيرين، مولى أنس بن مالك، وهو من مشاهير التابعين، وهو غير منصرف للعلمية، والمزيدتين على مذهب أبي علي في اعتبار مجرد الزائدتين (قال: ‌إن ‌هذا ‌العلم ‌دين) : اللام للعهد، وهو ما جاء به النبي - صلى الله عليه وسلم - لتعليم الخلق من الكتاب والسنة وهما أصول الدين (فانظروا عمن تأخذون دينكم) : المراد الأخذ من العدول والثقات، " وعن " متعلق بتأخذون على تضمين معنى تروون، ودخول الجار على الاستفهام هنا كدخوله في قوله تعالى{على من تنزل الشياطين}[الشعراء: 221] وتقديره أعمن تأخذون، وضمن انظر معنى العلم، والجملة الاستفهامية سدت مسد المفعولين تعليقا كذا حققه الطيبي. رواه مسلم."

(كتاب العلم، ج:1، ص:336، ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144410101502

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں