بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

دودھ پلانے والی عورت کے لیے رمضان کے روزوں کا حکم


سوال

اگر  شعبان  کے  مہینے  کے آخر میں بچے  کی  پیدائش  ہوجائے تو عورت   کے  لیے   رمضان  کے   روزے  چھوڑنا کیسا ہے؟ 

جواب

اگر روزہ رکھنے سے عورت کی جان کو یا  دودھ پینے والے  بچے  کی جان کو  نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو ایسی عورت روزے چھوڑسکتی ہے، لیکن بعد میں ان روزوں کی قضا ضروری  ہوگی۔

"عن أنس بن مالك، قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للحبلى التي تخاف على نفسها أن تفطر، وللمرضع التي تخاف على ولدها."

أخرجه ابن ماجه في سننه في باب ما جاء في الإفطار للحامل والمرضع (2/ 576) برقم (1668)،ط.  دار الرسالة العالمية، الطبعة: الأولى، 1430 هـ - 2009 م

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

"قال أبو جعفر: (وإذا خافت الحامل والمرضع على ولديهما: أفطرتا، وكان عليهما القضاء، ولا إطعام عليهما مع ذلك)، وذلك لأنهما معذورتان في الإفطار."

(شرح مختصر الطحاوی للجصاص: كتاب الصيام (2/ 437)،ط.  دار البشائر الإسلامية - ودار السراج، الطبعة: الأولى 1431 هـ - 2010 م)

حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"قوله: "ويجوز الفطر لحامل"......."ومرضع" هي التي شأنها الإرضاع فتسمى به ولو في غير حال المباشرة."

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: كتاب الصوم ، باب ما يفسد الصوم ويوجب القضاء، فصل في العوارض(ص: 684)،ط. دار الكتب العلمية بيروت،الطبعة: الطبعة الأولى 1418هـ - 1997م)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201298

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں