بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کے کہنے پر روزہ توڑنا


سوال

ایک بندہ ہے جس کے دانت میں شدید درد ہے، رمضان کے روزے کی حالت میں  ڈاکٹر کے پاس گیا،  ڈاکٹر نے کہا پہلے پانی پی لو؛ کیوں کہ میں دانت نکالنے  کے لیے انجکشن  لگاتا ہوں  اور  انجکشن ری ایکشن کرتا ہے تو  مریض نے پہلے پانی پی لیا۔  سوال یہ ہے کہ بعض مفتیان فتوی دیتے ہیں کہ کفارہ واجب ہوا۔  آیا یہ فتوی آپ کے نزدیک صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسؤلہ میں مذکورہ شخص کا درد اگر ناقابلِ  برداشت تھااور  فوری علاج ضروری تھا، اور دانت نکالنے سے پہلے پانی پینے کی تجویز  مسلمان دیندار ،تجربہ کار ڈاکٹر  نے دی تھی، ان کے کہنے پر اس شخص  روزہ توڑا ہےتو اس پر صرف ایک روزے کی قضا لازم ہے،  کفارہ واجب نہیں ہے ۔

فتاوی شامی(422/2):

"أو مريض خاف الزيادة) لمرضه وصحيح خاف المرض، وخادمة خافت الضعف بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بأخبار طبيب حاذق مسلم مستور .

(قوله: مسلم) أما الكافر فلايعتمد على قوله لاحتمال أن غرضه إفساد العبادة كمسلم شرع في الصلاة بالتيمم فوعده بإعطاء الماء فإنه لايقطع الصلاة لما قلنا بحر (قوله: مستور) و قيل: عدالته شرط، و جزم به الزيلعي، و ظاهر ما في البحر و النهر ضعفه ط. قلت: و إذا أخذ بقول طبيب ليس فيه هذه الشروط و أفطر فالظاهر لزوم الكفارة كما لو أفطر بدون أمارة و لا تجربة؛ لعدم غلبة الظن و الناس عنه غافلون." 

الفتاوى الهندیة (207/1):

"(ومنها المرض) المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير. والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض هكذا في التبيين ولو كان له نوبة الحمى فأكل قبل أن تظهر الحمى لا بأس به كذا في فتح القدير. ومن كان له حمى غب فلما كان اليوم المعتاد أفطر على توهم أن الحمى تعاوده وتضعفه فأخلفت الحمى تلزمه الكفارة كذا في الخلاصة."

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144109201830

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں