بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر اسرار احمد کی تفسیر سے استفادہ


سوال

میں قرآن سیکھنے اور سمجھنے کے لئے "ڈاکٹر اسرار احمد" کی یہ والی تفسیر "بیان القرآن" جو کہ "سات جلدوں" پر مشتمل ہے خریدنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ کتابیں مستند ہیں؟ کیا ان سات جلدوں میں ہی ڈاکٹر اسرار احمد کی مکمل تفسیر موجود ہے جس کو پڑھ کر ہم قرآن کو سمجھ سکتے ہیں؟ 

جواب

ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم باضابطہ مستند عالم دین نہیں ہیں ،اس لیے ان کی تفسیر کی بجائے کسی مستنداہلِ دل و اہلِ حق عالمِ کی تفسیر پڑھنے کی کوشش کریں تاکہ گمراہی کا خطرہ نہ ہو، اور آخرت میں مشکلات کا باعث نہ ہو، اور اہلِ حق کی مستند تفاسیر میں سےتفسیر " انوار البیان" مولانا عاشق الہٰی  بلند شہری رحمہ اللہ یا "معارف القرآن" مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانامفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کا مطالعہ کیا جائے، اور "فوائدِ عثمانی" شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ  زیادہ مفید ہے اور انداز بھی سہل ہے، اس سے استفادہ کیا جائے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن ابن سيرين قال: ‌إن ‌هذا ‌العلم ‌دين فانظروا عمن تأخذون دينكم. رواه مسلم."

(كتاب العلم، الفصل الثالث، رقم الحديث:273، ج:1، ص:90، ط: المكتب الاسلامي)

ترجمہ :" محمد بن سیرین مشہور تابعی سے منقول ہے  کہ:  یہ علم،  دین ہے ، پس تم دیکھ کہ کس شخص سے  اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔"

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن ابن سيرين) : وهو محمد بن سيرين، مولى أنس بن مالك، وهو من مشاهير التابعين، وهو غير منصرف للعلمية، والمزيدتين على مذهب أبي علي في اعتبار مجرد الزائدتين (قال: ‌إن ‌هذا ‌العلم ‌دين) : اللام للعهد، وهو ما جاء به النبي - صلى الله عليه وسلم - لتعليم الخلق من الكتاب والسنة وهما أصول الدين (فانظروا عمن تأخذون دينكم) : المراد الأخذ من العدول والثقات، " وعن " متعلق بتأخذون على تضمين معنى تروون، ودخول الجار على الاستفهام هنا كدخوله في قوله تعالى{على من تنزل الشياطين}[الشعراء: 221] وتقديره أعمن تأخذون، وضمن انظر معنى العلم، والجملة الاستفهامية سدت مسد المفعولين تعليقا كذا حققه الطيبي. رواه مسلم."

(كتاب العلم، ج:1، ص:336، ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411100092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں