بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ڈاکومنٹس فائل کرنے کی فیس لینے کاحکم


سوال

میں ایک ادارے میں ملازم ہوں، جہاں لیویرز اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس وغیرہ اپنے کلائینٹس کی طرف سے ڈاکومنٹس فائل کرتے ہیں اور اس کی فیس لیتے ہیں ،اگر یہ لیویرز یا خود کلائنٹس وغیرہ ہم سے ڈاکومنٹس بنوائیں اور ہمیں کنسلٹینسی فیس دیں ، جبکہ ہم مندرجہ ذیل شرائط کو پورا کرتے ہوئے یہ کام کریں تو کیا ہمارے لئے یہ فیس لینا شرعا جائز ہے؟ہم یہ کام آفس ٹائم کے علاوہ چھٹی کے دن کریں۔ہم قانون کے خلاف کوئی کام نہ کریں۔کوئی غیر ضروری فیور بھی نہ دیں۔دوسرے لوگوں کے کام کا حرج بھی نہ کریں۔آفس کی طرف سے کوئی تحریری ھدایت بھی نہیں کہ ملازم یہ کام نہیں کر سکتا۔برائے کرم راھنمائی فرمائیں۔

جواب

مذکورہ صورت میں چونکہ آپ ایک ادارے سے وابستہ ہیں، اس لئے دیانتاََ آپ پر ادارے کے مصالح کی رعایت لازم ہے، لہذا وہاں آنے والے کلائینٹس(گاہکوں) سے انفرادی طور پر ڈیل کرنا دیانت وامانت کے خلاف ہونے کی بنا پر شرعاََ جائز نہیں ۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143509200052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے