بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

دوبارہ ختنہ کرانے کا حکم


سوال

دوبارہ ختنہ کرانا کیسا ہے؟

جواب

اگر ختنہ کرنے میں جتنی جلد کاٹی جاتی ہے اس کا آدھے سے زائد حصہ کٹ گیا ہو تو دوبارہ ختنہ کرنا ضروری نہیں ہے، اور اگر جلد کا آدھا یا اس سے کم حصہ کٹا ہو تو ختنہ کی سنت ادا نہیں ہوئی، دوبارہ ختنہ کرلی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 751):
"(صبي حشفته ظاهرة بحيث لو رآه إنسان ظنه مختونًا ولاتقطع جلدة ذكره إلا بتشديد ألمه ترك على حاله، كشيخ أسلم وقال أهل النظر: لايطيق الختان) ترك أيضًا (ولو ختن ولم تقطع الجلدة كلها ينظر، فإن قطع أكثر من النصف كان ختانًا، وإن قطع النصف فما دونه لا) يكون ختانًا يعتد به؛ لعدم الختان حقيقةً وحكمًا". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201489

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں