بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دو تولہ سونے کی قیمت قرض لیے جانے کی صورت میں ادائیگی کے وقت اتنی ہی مقدار ادا کرنا لازم ہے


سوال

 میں نے 2019 میں گھر بناتے وقت اپنی چھوٹی شادی شدہ بہن سے کچھ قرض مانگا تھا، جس پر اس نے مجھے اپنا 2 تولہ سونے کا سیٹ بیچ کر اس کے  پیسے  بطور قرض دیے تھے، اور کہا تھا کہ جب بھی آپ کے پاس پیسے ہوں تو  مجھے 2 تولہ  ہی واپس کرنا ،اس بات پر میں نے ہاں بھی کرلی تھی، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت سونے کی قیمت 1 تولہ 75000 ہزار تھی اور مجھے 150000 روپے ملے  تھے ،اور اب سونے کی قیمت 1 تولہ 2 لاکھ سے بھی زیادہ ہے، اب میرا قرضہ 4 لاکھ سے بھی زیادہ ہو گیا ہے ،جوکہ دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے ، میرے اتنے وسائل بھی نہیں  ہیں کہ اتنے پیسے  واپس کروں ، اب کیا مجھے دو تولہ سونے کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے اپنی بہن کو قرضہ واپس کرنا ہے ،یا اسی پرانی قیمت پر جس پر میں قرض لیا تھا ؟

جواب

 یاد رہے کہ   قرض لیتے  وقت یا دیتے وقت جس کرنسی میں جتنی مقدار میں  قرض لیا گیا ہے،واپسی کی صورت میں اس  کرنسی کی اتنی ہی مقدار  واپس کی جائے گی ،صورتِ مذکورہ میں چوں کہ سائل  کی بہن نے 2019 میں سائل کو اپنا 2 تولے کا سونے کا سیٹ بیچ کر اس کی قیمت  ڈیڑھ لاکھ روپے150000  بطور قرض دیئے تھے ،اس لیے اب سائل پر قرضہ واپس کرتے وقت صرف  ڈیڑھ لاکھ روپے ہی  ادا کرنا لازم ہیں ،اس سے زائد نہیں  ، چاہے یہ  رقم موجودہ   2 تولہ سونا  کی قیمت کے برابر ہو یا نہیں ، باقی وعدہ کے مطابق عمل کرے تو بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فإذا ‌استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا".

(باب الربا،مطلب في استقراض الدراھم عددا،177/5،ط:سعید)

:وفيه ايضاّ

"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."

(كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل،ج:4،ص:320،ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"الواجب على المستقرض مثل ما ‌استقرض دينا في ذمته لا عينه فكان محتملا للاستبدال كسائر الديون، ولهذا اختص جوازه بما له مثل من المكيلات، والموزونات، والعدديات المتقاربة دل أن الواجب على المستقرض تسليم مثل ما ‌استقرض لا تسليم عينه إلا أنه أقيم تسليم المثل فيه مقام تسليم العين."

(كتاب البيوع، فصل في حكم البيع219/7،ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102271

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں