بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دو تولہ سونا اور کچھ نقدی مال پر زکات کا حکم


سوال

دو تولہ سونا اور اس کے ساتھ کچھ نقدی رقم مثلا پانچ سے دس ہزار موجود ہو تو   کیا زکوۃ لازم  ہوگی  ؟

جواب

  واضح  رہے  کہ   اگر سونا نصاب سے کم ہو لیکن اس کے ساتھ چاندی یا بنیادی ضرورت سے زائد نقدی ہو اور مجموعی مالیت نصاب چاندی (ساڑھے باون تولے ) کی مالیت کے برابر ہو    اور  اس  پر  سا ل  گزر  جائے  تو  زکاۃ ادا کرنا لازم ہے،لہذا  صورت  مذکورہ  میں  اگر  دو  تولہ  سونا  اور  ساتھ  موجود  پانچ  دس  ہزار  کی  مجموعی  قیمت  (ساڑھے  باون  تولہ  چاندی  )  کی  قیمت  کے  برابر  یا  اس  سے  زائد  بن  رہی   ہو    تو  اس  نصاب  پر  سال  گزرنے  کے  بعد  زکات  ادا  کرنا  لازم  ہوگی۔ ملحوظ رہے کہ آج کل دوتولہ سونے اور پانچ دس ہزار روپے کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے۔

فتاوی  شامی  میں  ہے:

"(قوله: و يضم إلخ) أي عند الاجتماع. أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع؛ لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا كما مر. وفي البدائع أيضا أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته، فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا يؤد من كل منهما ربع عشره."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:303، ط:مكتبه سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين)؛ لأن الكل للتجارة وضعاً وجعلاً (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة)".

(رد المحتار،كتاب الزكاة، ج:2 ص:303، ط:مكتبه سعيد)

فتح القدير للكمال ابن الهمام  میں ہے:

"(الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما ‌وحال ‌عليه ‌الحول)"

(كتاب الزكاة، 2/ 153، ط: دارالفكر بيروت)

فقط  واللہ  اعلم


فتوی نمبر : 144409100757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں