بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دو تولےسونا اور پانچ ہزار نقدی پر زکوۃ کا حکم


سوال

 میرے پاس دو تولے سونا اور پانچ ہزارروپے نقد رقم موجود ہے، جس پر مدت ایک سال گزر چکی ہے،کیا اس پر زکات عائد ہوتی ہے ؟آج کل سونے کی کتنی مقدار پر زکات فرض ہوتی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل   کے پاس دو تولہ سونا اور پانچ ہزار روپے موجود ہیں جوزکوۃ کے مقررہ  نصاب سے زائد ہیں ،اور اس مال پر سال بھی گزر چکا ہے،اس لیےنصاب  سےزائد رقم کامالک  ہونے کی وجہ سے سائل صاحبِ نصاب ہے اور اس کے پاس موجود   مال   پر زکوٰۃ کی ادائیگی  فرض ہے،نیز جس شخص کے پاس صرف سوناہو، اس کے ساتھ بنیادی ضرورت سے زائد نقد رقم یا چاندی   یا کسی قسم کا مالِ تجارت  بالکل موجود نہ ہوتو  اُس شخص کے پاس موجود سونے پر زکوٰۃ اس وقت لازم ہوگی جب کہ سونا ساڑھے سات تولہ  ہو،اس سے کم میں سونے پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وتضم قیمة العروض الی الثمنین،والذھب الی الفضة قیمة کذا فی الکنز حتی لو ملک مائة درھم وخمسة دنانیر قیمتھا مائة درھم تجب الزکوٰہ عندہ خلافا لھما ولو ملک مائة درھم وعشرۃ دنانیر أو مائةوخمسین درھما وخمسة دنانیر أو خمسة عشر دینارا وخمسین درھما تضم اجماعا."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض، الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة، ج:1، ص:179، ط: دار الفكر بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا."

( كتاب الزكاة، فصل مقدار الواجب في زكاة الذهب، ج:2، ص:19، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل)والدينار عشرون قيراطا، والدرهم أربعة عشر قيراطا، والقيراط خمس شعيرات، فيكون الدرهم الشرعي سبعين شعيرة والمثقال مائة شعيرة، فهو درهم وثلاث أسباع درهم وقيل يفتى في كل بلد بوزنهم."

(كتاب الزكاة، ‌‌باب زكاة المال، ج:2، ص:295، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411100544

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں