بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دو ماہ کی نمازوں کا کفارہ؟


سوال

ہماری ماں وفات ہوگئی ہے، ان سے دو مہینوں کی نمازیں فوت ہوئی ہیں۔ان کا کتنا فدیہ دے دوں؟

جواب

ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے،  اور روزانہ وتر کے ساتھ چھ نمازیں ہیں، تو ایک دن کی نمازوں کے فدیے بھی چھ ہوئے، اور ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا آٹا یا اس کی قیمت ہے،  لہذا  روزانہ چھ نمازوں کی حساب سے دو مہینوں کی (۳۶۰)نمازوں کا فدیہ ادا کریں۔

"إذا مات الرجل، وعليه صلوات فائتة، وأوصى بأن يعطى كفارة صلاته، يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر، وللوتر نصف صاع، ولصوم يوم نصف صاع ".

(البحر الرائق: كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت (2/ 98)، ط.  دار الكتاب الإسلامي، الطبعة الثانية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407102075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں