بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

دو ماہ کا حمل ساقط کرنا


سوال

زید کا چھوٹا بچہ ابھی دوسال کا ہے، اس کی بیوی پھر حاملہ ہے، حمل دو مہینے کا ہے، بیوی حمل ساقط کرانا چاہتی ہے، زید بھی راضی ہے؛ کیوں کہ اس کی بیوی ایک ساتھ دو بچوں کو نہیں سنبھال سکتی، چڑ چڑی بداخلاق ہو جاتی ہے، زید کے پاس وقت نہیں کہ بچوں کو سنبھالنے کے لیے وقت دے سکے؛ لہذا زید بمجبوری راضی ہے، تو کیا ایسی صورت میں حمل ساقط کرا  سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

حمل سے عورت کی جان کو خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ   ہو، یا  حمل سے عورت کا دودھ بند  ہو جائے  یا خراب ہو جائے جس  سے پہلے  بچے کو نقصان ہو  اور بچے کے والد کی اتنی گنجائش نہ ہو کہ وہ اجرت پر دودھ پلانے والی عورت مقرر کرسکے تو ایسے اعذار کی بنا پر  حمل میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    حمل  ساقط کرنے کی گنجائش ہے، اور چار ماہ کے بعد کسی صورت میں اسقاطِ حمل جائز نہیں ہے، اور   شدید عذر نہ ہو تو چار مہینے سے پہلے اِسقاطِ  حمل میں کراہت ہے۔عذر ہو تو کراہت بھی نہیں ہے؛  اس لیے آپ کی بیوی  کے لیے دو ماہ کا حمل ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی۔

 فتاوی عالمگیری میں ہے:

"امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفةً أو مضغةً أو علقةً لم يخلق له عضو، وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوماً: أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان."

( کتاب الکراہیۃ،  الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات، ج: 5 صفحہ: 356، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200863

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں