بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

دو دن روزے کی حالت میں جماع کرنے سے کتنے کفارے لازم ہیں؟


سوال

پردیس سے رمضان المبارک میں واپسی ہوئی اور روزہ کی حالت میں شریکہ حیات سے دو دن ہمبستری ہوئی اس وقت علم نہ تھا کہ کفارہ ہوگا اب معلوم ہوا، کفارا ہوگا یا نہیں؟ اور اگر کفاره ہوگا تو 60 روزے رکھنےہوں گےیا 120روزے؟

جواب

واضح رہے کہ ایک ہی رمضان میں روزے کی حالت  مختلف ایام میں متعدد بار جماع کرنے سے ایک ہی کفارہ لازم ہوتا ہے، لہذا آپ نے جب رمضان میں  دو دن روزے کی حالت میں جماع کیا تو ان دو روزوں کی قضا اور ایک کفارہ یعنی ساٹھ دن مسلسل روزے رکھنا واجب ہے، اگر درمیان میں ایک روزہ بھی چھوٹ گیا تو از سرِ نَو روزے رکھنے ہوں گے۔ اگر کفارے کے روزے رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو پھر  ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا بھی کھلا سکتے ہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو جامع في رمضان متعمداً مراراً بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية، وذكر محمد في الكيسانيات أن عليه كفارة واحدة، وكذا حكى الطحاوي عن أبي حنيفة."

( بدائع الصنائع، كتاب الصوم،فصل حكم فساد الصوم،101/2، دارالكتب العلمية)

البحرالرائق میں ہے:

"ولو جامع مرارا في أيام رمضان واحد، ولم يكفر كان عليه كفارة واحدة؛ لأنها شرعت للزجر، وهو يحصل بواحدة فلو جامع وكفر ثم جامع مرة أخرى فعليه كفارة أخرى في ظاهر الراوية للعلم بأن الزجر لم يحصل بالأول۔ ولو جامع في رمضانين فعليه كفارتان، وإن لم يكفر للأولى في ظاهر الرواية، وهو الصحيح كذا في الجوهرة."

(البحرالرائق، كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،298/2، دارالكتاب الاسلامي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144310100122

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں