بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹوں اور ایک بیٹی میں میراث کی تقسیم


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا ہے ، اس کے والدین پہلے سے نہیں ہیں، انتقال کر گئے تھے ، اس کی بیوی بھی اس کی زندگی میں ہی ایک سال قبل انتقال کرگئی تھی۔ اب اس کے انتقال کے وقت ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے ، ان تینوں میں میراث کی تقسیم کس حساب سے ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں   سائل کے مرحوم شخص کے ترکہ کی تقسیم  کاشرعی  طریقہ  یہ  ہے کہ مرحوم کے  حقوق  متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا  خرچہ نکالنے کے بعداگراس کے ذمہ  کوئی قرض ہو تو  اسے ادا کرنے کے بعد اگر  اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے ایک تہائی حصہ میں اسے نافذکرنے کے بعد باقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو5 حصوں میں تقسیم کر کے 2 حصے مرحوم کے ہر بیٹے کو  اور ایک  حصہ مرحوم بیٹی کو ملے گا ۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت: 5

بیٹابیٹابیٹی
221

یعنی 100 فیصد میں سے 40 فیصد ہر ایک بیٹے کو اور 20 فیصد بیٹی کو ملے گا ۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503101993

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں