بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

دو بھائی اور چار بہنوں کی میراث کی تقسیم کا طریقہ


سوال

چار بہنوں اور دو بھائیوں میں گھر کی تقسیم کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دو بیٹوں اور چار بیٹیوں میں میراث کے مکان کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ  کل مکان کی مالیت لگا کر اس کو 8 حصوں میں تقسیم کرکے  ہر ایک بیٹے کو 2،2 حصے، اور ہر ایک بیٹی کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔

یعنی مثلاً 100 روپے میں سے ہر  ایک بیٹے کو 25 روپے، اور ہر ایک بیٹی کو 12/5 روپے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ: اگر مذکورہ سوال میراث کے علاوہ کسی صورت سے متعلق ہے، مثلاً ملکیت کے اعتبار سے مشترک مکان ہے، یا والد زندگی میں ان کے درمیان تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں، تو وضاحت کرکے دوبارہ سوال ارسال کردیجیے۔ 


فتوی نمبر : 144109203144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں