بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

دو بطن مناسخہ


سوال

زید کی وفات کے وقت دو بیویاں زندہ اور زید کے نکاح میں تھیں، پہلی بیوی سے زید کے 4 بچے تھے، جس میں 3 بیٹے اور 1 بیٹی، جب کہ دوسری بیوی سے بھی 4 ہی بچے تھے، جس میں 3 بیٹیاں اور 1 بیٹا۔ زید کا انتقال 2004 میں ہوا ،جب کہ کچھ گھریلو معاملات کے باعث زید کی وراثت تقسیم نہیں کی گئی، 2017 میں زید کی پہلی بیوی کا انتقال ہو گیا، انتقال کے وقت زید کی پہلی بیوی کی ملکیت میں کوئی جائیداد نہیں تھی اور نہ ہی پہلی بیوی کے انتقال تک زید کی کوئی وراثت تقسیم کی گئی تھی جو پہلی بیوی کو منتقل ہوتی اور پھر ان کے ورثاء میں آج 2023 میں زید کے ورثاء میں زید کی دوسری بیوی، پہلی بیوی کے 4 بچے یعنی 3 بیٹے اور 1 بیٹی اور دوسری بیوی کے بھی چارو بچے یعنی 3 بیٹیاں اور 1 بیٹا ذندہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آج 2023 میں زید کی وراثت تقسیم کیسے ہوگی اور پہلی بیوی مرحومہ کا کیا معاملہ ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں  زید مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے  مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کی ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 672 حصوں میں تقسیم کرکے  مرحوم کی زندہ بیوہ کو 42 حصے ،اور مرحوم کی پہلی مرحومہ بیوی کی ہر ایک بیٹے کو110 حصے ، اور اس کی بیٹی کو 55 حصے ، اور مرحوم کی دوسری بیوی کے بیٹے کو 98 حصے اور اس  کی ہر ایک بیٹی  کو  49 حصے  ملیں گے ۔

صورت ِ تقسیم یہ ہے :

میت۔۔۔672/96/8

بیوہبیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
66141414147777
مرحوم429898989849494949

میت۔۔۔7                                                                                                                                                   مافی الید6

بیٹابیٹابیٹابیٹی
2221
1212126

فیصد کے اعتبار سے مرحوم کی زندہ بیوہ کو 6.25 فیصد اور مرحوم کی  مرحومہ بیوی کے ہر ایک بیٹے کو 16.36 فیصد اور اس کی بیٹی کو 8.18 فیصد اور مرحوم کی دوسری بیوی کے بیٹے کو 14.58 فیصد اور اس کی ہر ایک بیٹی کو 7.29 فیصد  ملے گا ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100694

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں