بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دو بندوں کا بستر پر سوکر اٹھنے کی صورت میں بستر پر منی کا نشان دیکھنا /غسل کے فرائض میں وقفہ


سوال

میں نے کافی دیر پہلے کسی کتاب میں غسل کے مسائل کے متعلق پڑھا تھا کہ اگر دو لوگ ایک بستر پر سوئیں اور اٹھنے کے بعد بستر پر منی ہو تو دونوں پر غسل فرض ہوگا، اچھے سے یاد تو نہیں، اس لیے اس مسئلے کی وضاحت کیجیے۔ اور اس بات کی بھی وضاحت کیجیے اگر منی پہلے سے بستر پر ہو اور پتہ نہ ہو تو کیا حکم ہوگا؟ اور اگر دو لوگوں کے لیے  یہ حکم ہوگا تو ایک شخص کے لیے  کیا حکم ہوگا چاہے منی پہلے سے یا نہ ہو؟ غسل کے فرائض میں وقفہ کے متعلق اکثر مجھے کنفیوژن ہوتا ہے، مثال کے طور پر اگر کسی پر غسل فرض ہو اور صرف نہا لے اور باقی دو فرائض چھوڑ دے غلطی یا جان بوجھ کر  اور ایک یا دو دن کے بعد وہ فرائض پوری کرے توکیا اس سے غسل مکمل ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر دو مرد یا دوعورتیں یا ایک مرد اور ایک عورت  ایک ہی بستر پر لیٹیں ،اور اٹھنے کے بعد بستر پر منی کا نشان پایا جائے اور کسی طریقہ سے یہ معلوم نہ ہو  کہ یہ کس کی منی ہے اور نہ اس بستر پر ان سے پہلے کوئی اور سویا ہو تو اس صورت میں دونوں پر غسل فرض ہوگا ،اور اگر ان سے پہلے کوئی اور شخص اس بستر پر سوچکا ہے اور منی خشک ہے تو اس صورت میں دونوں پر غسل فرض نہیں ہوگا اور اگر ایک شخص سو کر اٹھا اور اس نے بستر پر منی کا نشان پایا اور اس سے پہلے بھی کوئی اس بسترپر نہیں سویا  تو اس پر غسل واجب ہوگا ۔

فرض غسل میں اگر کوئی شخص ناک میں پانی ڈالنا یا کلی کرنا بھول جائے تو یاد آنے پر جو فرض رہ گیا ہے اس کو کرلے، یعنی ناک میں پانی ڈال لے یا کلی کرلے،اس سے غسل ہوجائے گا،  از سرِ نو پورے غسل کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، اور اس دوران جو نمازیں پڑھی گئی ہیں اگر وہ نفل ہیں تو  ان کا اعادہ لازم نہیں ہے، اور اگر فرض ہیں تو ان کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"ولو وجد بين الزوجين ماء ولا مميز ولا تذكر ولا نام قبلهما غيرهما اغتسلا.

(قوله: ولو وجد إلخ) حاصله أنه لو وجد الزوجان في فراشهما منيا ولم يتذكرا احتلاما، فقيل إن كان أبيض غليظا فمني الرجل، وإن كان أصفر رقيقا فمني المرأة. وقال في الظهيرية بعد حكايته لهذا القول: والأصح أنه يجب عليهما احتياطا، وعزا هذا الثاني في الحلية إلى ابن الفضل، وقال: ومشى عليه في المحيط والخلاصة، واستظهر في الفتح الجمع بين القولين، فقيد الوجوب عليهما بعدم التذكر وعدم المميز من غلظ ورقة أو بياض وصفرة، ثم قال: فلا خلاف إذن، واستحسنه في الحلية وأقره في البحر، لكن في شرح المنية أن المميز يختلف باختلاف المزاج والأغذية فلا عبرة به، والاحتياط هو الأول.

(قوله: ولا نام قبلهما غيرهما) ذكره في الحلية بحثا وتبعه في البحر قال: فلو كان قد نام عليه غيرهما وكان المني المرئي يابسا فالظاهر أنه لا يجب الغسل على واحد منهما."

(کتاب الطہارۃ،ج:۱،ص:۱۶۴،سعید)

اللباب في الجمع بين السنة والكتابمیں ہے :

"عن ابن عباس رضي الله عنه قال: إذا ‌نسي ‌المضمضة والاستنشاق إن كان جنبا أعاد المضمضة والاستنشاق واستأنف الصلاة ". وكذلك قال ابن عرفة، وإلى هذا ذهب الثوري رحمه الله تعالى."

(باب المضمضۃ والاستنشاق فرضان فی الغسل،ج:۱،ص:۱۲۶،دارالقلم)

فتاوی شامی میں ہے :

"[فروع] ‌نسي ‌المضمضة أو جزءا من بدنه فصلى ثم تذكر، فلو نفلا لم يعد لعدم صحة شروعه.

(قوله: لعدم صحة شروعه) أي والنفل إنما تلزم إعادته بعد صحة الشروع فيه قصدا، وسكت عن الفرض لظهور أنه يلزمه الإتيان به مطلقا."

(کتاب الطہارۃ،ج:۱،ص:۱۵۵،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100099

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں