بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دو بچوں میں سے پہلے کس کا عقیقہ کیا جائے؟


سوال

کیا میں اپنے بڑے بیٹے کی جگہ پہلے چھوٹے بیٹے کا عقیقہ کر سکتا ہوں؟

جواب

عقیقہ کرنا مستحب ہے  اورعقیقہ کا طریقہ یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں  ، چودھویں یا اکیسویں دن میں کیا جائے،  اگر کسی وجہ سے ان دنوں میں نہ ہوسکے تو پھر کبھی بھی کرلیا جائےا ور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ سات  کے عدد کی رعایت رکھی جائے، یعنی پیدائش کے دن سے جو ساتواں دن ہو، اس دن کی رعایت کی جائے،  لہذا صورتِ مسئولہ میں چھوٹے بیٹے کی پیدائش کو اکیس دن سے کم ہوئے ہیں تو پھر مستحب ایام میں اس کا عقیقہ کرلیا جائے اور بڑے والے کا بعد میں کرلیا جائے اور اگر دونوں کے حق میں مستحب ایام گزر چکے ہیں (یعنی اکیس دن سے اوپر ہوگئے ہیں) تو پھر جس کا  چاہیں پہلے  کرلیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم."

(کتاب الاضحیۃ ج نمبر ۶ ص نمبر ۳۳۶، ایچ ایم سعید)

اعلاء السنن  میں ہے:

"و في الحديث المذكور أيضا أنها إن لم تذبح في السابع ذبحت في الرابع عشر و إلا ففي الحادي و العشرين ثم هكذا في الأسابيع." 

(کتاب الاضاحی ج نمبر ۱۷ ص نمبر ۱۱۸،ادارۃ القران و العلوم الاسلامیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں