بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

دخول نہیں ہوا تو غسل کا حکم


سوال

دخول سے کیا مراد ہے؟ اگر ایک شخص اپنی بیوی کے دونوں ٹانگو ں کے درمیان اپنا عضو رگڑے اور وہ عورت کے عضو خاص کے ساتھ صرف مس ہو،  لیکن وہ عورت کی جسم کے اندر داخل نہ ہو ، اس سے مرد کو تسکین ملے اور اس کا انزال بھی ہو ،لیکن بیوی کچھ شہوت محسوس نہ کرےتو اس صورت میں کیا عورت پر بھی غسل واجب ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  میاں بیوی آپس میں اس طرح ملیں کہ ان دونوں کی شرم گاہیں ایک دوسرے سے صرف مل جائیں،  لیکن دخول کچھ نہ ہوا ہو،صرف شوہر  کو انزال ہوا ہو، عورت کو انزال نہیں ہوا تو اس صورت میں صرف   شوہر پر غسل واجب ہوگا، جب کہ بیوی پر غسل واجب نہیں ہوگا۔

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے :

"فصل ما يجب فيه الاغتساليفترض الغسل بواحد من سبعة أشياء خروج المني الى ظاهر الجسد إذا انفصل عن مقره بشهوة من غير جماع وتواري حشفة". 

(صل مايجب فيه الاغتسال ،ص: 42،المكتبة العصرية)

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

"و" منها "توارى حشفة" هي رأس ذكر آدمي مشتهى حي احترز به عن ذكر البهائم والميت والمقطوع والمصنوع من جلد والأصبع وذكر صبي لايشتهي والبالغة يوجب عليها بتواري حشفة المراهق الغسل".

 (فصل مايجب فيه الاغتسال ،ص: 43،المكتبة العصرية)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے :

"والثاني: إيلاج الفرج في الفرج في السبيل المعتاد سواء أنزل، أو لم ينزل؛ لما روي أن الصحابة -رضي الله عنهم - لما اختلفوا في وجوب الغسل بالتقاء الختانين بعد النبي صلى الله عليه وسلم وكان المهاجرون يوجبون الغسل، والأنصار لا، بعثوا أبا موسى الأشعري إلى عائشة -رضي الله عنها- فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا التقى الختانان، وغابت الحشفة وجب الغسل أنزل، أو لم ينزل»، فعلت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم واغتسلنا، فقد روت قولًا، وفعلًا".

(فصل الغسل ،1/ 36،دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144402101582

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں