بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ایکسیڈنٹ میں وفات پاجانے والے کی دیت کی مقدار


سوال

میرے والد صاحب اور دو بھائی 10مارچ 2022 کو موٹر سائیکل پر رات کو گھر آرہے تھے، اس دوران ٹرک کے ساتھ حادثہ ہوا اور تینوں اللہ کو پیارے ہوگئے، اب ہم ان سے دیت لینا چاہتے ہیں، آپ ہمیں بتائیں کہ شریعت کی رُو سے ہم ان کی کتنی دیت لے سکتے ہیں؟

جواب

اگر ایکسیڈنٹ ٹرک ڈرائیور  کی غلطی سے ہوا ہو تو یہ قتلِ خطا ہے اور  اس کی وجہ سے ڈرائیور پر کفارہ( یعنی مسلسل ساٹھ روزے) اور دیت( یعنی سونے یا چاندی کی شکل میں رقم جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے) دونوں لازم  ہے۔

 ایک مقتول کی دیت کی مقدار یہ ہے کہ دیت اگر  سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازہ  جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے،  اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 2625 تولہ چاندی جس کا اندازہ جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے،نیز ہر مقتول کی الگ الگ دیت واجب ہے،ملحوظ رہے دیت کی ادائیگی اس ڈرائیور کی ’’عاقلہ‘‘ کے ذمہ ہے، اور عاقلہ سے مراد وہ جماعت، تنظیم یا کمیونٹی ہے جس کے ساتھ اس ڈرائیور کا تناصُر (یعنی باہمی تعاون) کا تعلق ہو، نیز یہ دیت تین سال میں ادا کی جائے گی،  البتہ اگر ڈرائیور اور مقتول کے ورثاء آپس میں اپنے درمیان متعین کردہ رقم پر مصالحت کریں تو وہ بھی درست ہے۔

تکملة فتح الملهم (2/ 523) :

"ثم لم یذکر الفقهاء حکم السیارة لعدم وجودها في عصرهم. والظاهر أن سائق السیارة ضامن لما أتلفته في الطریق ، سواء أتلفته من القدام أو من الخلف. و وجه الفرق بینها و بین الدابة علی قول الحنفیة أن الدابة متحرکة بإرادتها، فلاتنسب نفحتها إلی راکبها، بخلاف السیارة، فإنها لاتتحرك بإرادتها ، فتنسب جمیع حرکاتها إلی سائقها، فیضمن جمیع ذلك، والله سبحانه و تعالیٰ أعلم."

فتاوى ہنديہ میں ہے:

"جوز الصلح عن جناية العمد والخطأ في النفس وما دونها إلا أنه لو صالح في العمد على أكثر من الدية جاز، كذا في الاختيار شرح المختار ويكون المال حالا على الجاني في ماله دون العاقلة، كذا في الحاوي.وفي الخطأ لو صالح على أكثر من الدية لايجوز، كذا في الاختيار شرح المختار."

(كتاب الصلح،الباب الثاني عشر في الصلح عن الدماء والجراحات،4 / 260، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101828

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں