بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈپریشن کیسے ختم کی جائے؟


سوال

میں لاہور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں اور یونیورسٹی کا طالب علم ہوں میں بہت زیادہ حساس طبیعت کا ہوں چھوٹی چھوٹی بات دل پہ لیتا ہوں اور سوچتا ہوں میں جس مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہوں وہاں مجھے یہاں ایک انکل ہیں جو کہ میرے ابو یا دادا ابو کی عمر کے ہیں مجھے ان سے بہت زیادہ عقیدت ہو گئی ہے میرا دل چاہتا ہے میں اپنے دل کی ہر بات ان سے کروں میں ان کو میسیجز اور پوسٹس اور ویڈیوز بھیجتا رہتا ہوں میں ان کے لیے کافی زیادہ پریشان رہتا ہوں کہ وہ مجھے چھوڑ نا دیں ،اسی وجہ سے میں پچھلے ایک مہینے سے بہت زیادہ ڈپریشن میں مبتلا ہوں میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوتی ہے اور میرا دماغ ہر وقت بوجھ میں دبا ہوتا ہے مجھے گائیڈ کریں کہ میں ان سے کس طرح رہوں کیا ہر روز کال میسج کرتا رہوں یا پھر تھوڑا دور رہوں؛ کیوں کہ  وہ مجھے بہت زیادہ اگنور کرتے ہیں جس وجہ سے میں پریشان ہو جاتا ہوں،  مجھے کوئی ایسا طریقہ بتائیں جس کی وجہ میں چاہتا ہوں ان کے دل میں بھی میرے لیے اتنی ہی محبت پیدا ہو جتنی میرے دل میں ان کے لیے ہے اور مجھے ڈپریشن سے نکلنے کا کوئی حل بتائیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ اپنی پڑھائی پر دھیان دیں او ر دوستیوں میں مشغول نہ ہوں اور اس کی طرف توجہ نہ دیں۔

باقی جہاں تک بات ڈپریشن کی ہےاس کا حل یہ ہے کہ   نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی معاملے میں پریشانی یا گھبراہٹ ہوتی تو آپ   صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اور ہمیں بھی آپ   صلی اللہ علیہ وسلم نے اور قرآنِ پاک نے یہی تعلیم دی ہے کہ جب بھی کوئی پریشانی یا مصیبت آئے تو نماز اور دعا کی طرف متوجہ ہوں، اور صبر کریں۔ سورہ بقرہ میں حکم ہے کہ اے ایمان والو! نماز اور صبر کے ذریعے مدد حاصل کرو۔ اور نبی کریم     صلی اللہ علیہ وسلم   کا معمول یہ تھا کہ جب بھی آپ   صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی غم و کرب لاحق ہوتا تو آپ   صلی اللہ علیہ وسلم درج ذیل دعا فرمایا کرتے تھے:

 "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمُ."

نیز  پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کے ساتھ،   کثرت سے استغفار اور اللہ کا ذکر کرنے سے بھی ذہن کو سکون اور راحت میسر ہوگا، نیز فجر کی باجماعت نماز کا بھی اہتمام  کریں، کوئی ایک نماز قضا کرنا بھی بہت بڑا گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کی معصیت سے بھی پریشانیاں آتی ہیں۔لہذا  آپ ان امور کا اہتمام کریں اللہ سے امید ہے کہ اللہ آپ کو راحت و سکون نصیب کرےگا۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ابن عباس، أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول عند الكرب: «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض ورب العرش الكريم»."

(کتاب الذکر و الدعاء و التوبة و الإستغفار ، باب دعاء الکرب جلد 4 ص: 2092 ط: داراحیاء التراث العربي)

مشکوۃ المصابیح میں ہےـ:

"وعن ابن عباس رضي الله عنهماقال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا ومن كل هم فرجا ورزقه من حيث لا يحتسب»." 

(کتاب الدعوات ، باب الإستغفار و التوبة جلد 2 ص: 723 ط: المکتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144504100795

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں