بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈیجییٹل کرنسی یعنی کرپٹو وغیرہ کا شرعی حکم


سوال

ڈیجیٹل کرنسی مثلاً کریپٹو کرنسی وغیرہ میں خرید وفروخت کر کے منافع کمانا شرعاً جائز ہے یا ناجائز ؟

جواب

واضح رہے کہ" ڈیجیٹل کرنسی"  کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے   " کرپٹو کرنسی" یا کسی بھی   " ڈیجیٹل کرنسی" کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا  اور منافع کمانا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(بطل بيع ما ليس بمال)....(والمعدوم كبيع حق التعلي) أي علو سقط؛ لأنه معدوم.

(قوله: والمعدوم كبيع حق التعلي) قال في الفتح: وإذا كان السفل لرجل وعلوه لآخر فسقطا أو سقط العلو وحده فباع صاحب العلو علوه لم يجز؛ لأن المبيع حينئذ ليس إلا حق التعلي، وحق التعلي ليس بمال؛ لأن المال عين يمكن إحرازها وإمساكها ولا هو حق متعلق بالمال بل هو حق متعلق بالهواء، وليس الهواء مالا يباع والمبيع لا بد أن يكون أحدهما."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد ، ج:5، ص:50، ط:  سعید)

وفيه أيضاً:

"(قوله: مالا أو لا) إلخ، المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا؛ فما يباح بلا تمول لايكون مالًا كحبة حنطة وما يتمول بلا إباحة انتفاع لا يكون متقوما كالخمر، وإذا عدم الأمران لم يثبت واحد منهما كالدم بحر ملخصًا عن الكشف الكبير.

وحاصله أن المال أعم من المتمول؛ لأن المال ما يمكن ادخاره ولو غير مباح كالخمر، والمتقوم ما يمكن ادخاره مع الإباحة، فالخمر مال لا متقوم،» ... وفي التلويح أيضًا من بحث القضاء: والتحقيق أن المنفعة ملك لا مال؛ لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص، والمال ما من شأنه أن يدخر للانتفاع وقت الحاجة، والتقويم يستلزم المالية عند الإمام والملك ... وفي البحر عن الحاوي القدسي: المال اسم لغير الآدمي، خلق لمصالح الآدمي وأمكن إحرازه والتصرف فيه على وجه الاختيار، والعبد وإن كان فيه معنى المالية لكنه ليس بمال حقيقة حتى لايجوز قتله وإهلاكه."

(کتاب البیوع،ج:4،ص:501،سعید)

تبیین الحقائق میں ہے:

"ووجه الفرق بين حق التعلي حيث لا يجوز بيعه باتفاق الروايات وبين حق المرور في الطريق حيث يجوز بيعه في رواية ابن سماعة أن حق المرور متعلق برقبة الأرض ورقبة الأرض مال وهو عين فما تعلق به كان له حكم المال وحق التعلي متعلق بالهواء والهواء ليس بعين مال ولا له حكم المال فلا يجوز."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج:4، ص:52، ط: مطبعة الکبری الامیریة)

 الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

"والمراد بالمال عند الحنفية: ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم. وقد انتقد الأستاذ الزرقاء هذا التعريف، واستبدل به تعريفاً آخر، فقال: المال هو كل عين ذات قيمة مادية بين الناس . وعليه لا تعتبر المنافع والحقوق المحضة ما لاً عند الحنفية."

(القسم الثالث، فصل اول، مبحث اول، مطلب اول، ج:5، ص:3305، ط: دار الفکر)

تجارت کے مسائل کاانسائیکلوپیڈیا میں ہے :

"بٹ کوائن"  محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں، لہذا موجودہ  زمانے میں   " کوئن" یا   "ڈیجیٹل کرنسی"  کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے   " بٹ کوائن" یا کسی بھی   " ڈیجیٹل کرنسی" کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے."

(ج:2،ص:92،بیت العمار)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506102630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں