بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1441ھ- 11 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

دیہات میں سورج گرہن کی با جماعت نماز کا حکم


سوال

 سورج گرہن کی نماز باجماعت دیہات میں ادا کرنا جائز ہے جب کہ وہاں جمعہ اور عیدین کی نماز نہیں پڑھی جاتی ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ سورج گرہن کی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے وہی شرائط ہیں جو جمعہ کی نماز کے لیے ہیں،لہذا وہ دیہات جہاں جمعہ کی نماز نہیں ادا کی جاتی وہاں سورج گرہن کی نماز باجماعت نہیں ادا کی جائے گی، بلکہ ہر فرد انفرادی اپنے گھر میں نماز پڑھے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: بیان للمستحب) أي قوله: يصلي بالناس بيان للمستحب وهو فعلها بالجماعة أي إذا وجد إمام الجمعة وإلا فلاتستحب الجماعة بل تصلیٰ فرادیٰ إذ لایقیمها غیره کما علمته ... وحاصله: أنها تصح بالجماعة و بدونها، والمستحب الأول، لکن إذا صلیت بجماعة لایقیمها إلا السلطان و مأذونه، کما مر أنه ظاهر الروایة". (2/181,182) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144111200004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں