بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل سیگنیگ سکرین کی خریدوفروخت کا حکم


سوال

آج کل  دنیا میں ایک نئی چیز چل رہی ہے جس کو ڈیجیٹل سگنیگ  digital signage  کے نام سے جانا جاتا ہے اس کا تعارف کچھ یوں ہے کہ ایک اسکرین ہوتی ہے ٹی وی کی طرح اور اس پر کمپیوٹر کا سافٹ ویئر ڈال کر اس کو مختلف قسم کے استعمالات میں لایا جاتا ہے جیسے کانفرنس میں پریزنٹیشن کی تصاویر دکھانا اشتہارات چلانا وغیرہ وغیرہ ، اس طرح کی ا سکرین کا کاروبار کرنا کیا ٹی وی کے کاروبار کرنے میں آئے گا یا کمپیوٹر کے کاروبار کرنے میں آئے گا؟

جواب

جس چیز کا استعمال صرف ناجائز اور گناہ کے کاموں کے لیے ہوتا ہے، اس کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے، اور جس چیز کا استعمال جائز اور ناجائز دونوں طرح ہوسکتا ہے، اس کی خرید وفروخت جائز ہے، اگر کوئی شخص ان چیزوں کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اسکرین کی خرید وفروخت اورکاروبارکرنا جائز ہے،اوریہ کمپیوٹر کی طرح ہے،ٹی وی کی طرح نہیں،کیوں کہ ٹی وی صرف معصیت (گناہ) کا آلہ ہے، اس کی خریدوفروخت  کسی صورت جائز نہیں ہے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها كما علمت فی التروك. وذكر قاضی خان فی فتاواه: إن بيع العصير ممن يتخذه خمرا إن قصد به التجارة فلايحرم وإن قصد به لأجل التخمير حرم وكذا غرس الكرم علىٰ هذا (انتهى)."

(الاشباہ والنظائرلابن نجيم ص:12، الفن الاول، القاعدۃ الثانیۃ، ط؛ سعید)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"ويجوز بيع آلات الملاهي من البربط، والطبل، والمزمار، والدف، ونحو ذلك عند أبي حنيفة لكنه يكره وعند أبي يوسف، ومحمد: لا ينعقد بيع هذه الأشياء؛ لأنها آلات معدة للتلهي بها موضوعة للفسق، والفساد فلا تكون أموالا فلا يجوز بيعها ولأبي حنيفة رحمه الله أنه يمكن الانتفاع بها شرعا من جهة أخرى بأن تجعل ظروفا لأشياء، ونحو ذلك من المصالح فلا تخرج عن كونها أموالا، وقولهما: إنها آلات التلهي، والفسق بها قلنا نعم لكن هذا لا يوجب سقوط ماليتها كالمغنيات، والقيان، وبدن الفاسق، وحياته، وماله، وهذا؛ لأنها كما تصلح للتلهي تصلح لغيره على ماليتها بجهة إطلاق الانتفاع بها لا بجهة الحرمة، ولو كسرها إنسان ضمن عند أبي حنيفة رحمه الله وعندهما لا يضمن، وعلى هذا الخلاف بيع النرد، والشطرنج، والصحيح قول أبي حنيفة رضي الله عنه؛ لأن كل واحد منهما منتفع به شرعا من، وجه آخر بأن يجعل صنجات الميزان فكان مالا من هذا الوجه فكان محلا للبيع مضمونا بالإتلاف."

(كتاب البيوع ،فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه،ج:5،ص:144ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں