بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل مارکیٹینگ / Digital Marketing حلال ہے یا حرام؟


سوال

ڈیجیٹل مارکیٹینگ / Digital marketing حلال ہے یا حرام؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی کاروبار کے جواز اور عدمِ جواز کا تعلق اس کاروبارکی نوعیت اور طریقۂ کارسے ہوتاہے، اگر وہ کاروبار بنیادی طور پر حلال اور جائز ہو، اس کا طریقۂ کار شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اس میں کسی قسم کے غیر شرعی امر کا ارتکاب کرنا نہیں پڑتا ہو تو ایسا کاروبار کرنا جائز ہے اور اگر وہ کاروبارناجائز ہو یا کاروبار فی نفسہ  تو جائز ہو، لیکن اُس کے کرنے میں کسی غیر شرعی امرکا ارتکاب کرنا پڑتا ہو، یا اس کے کرنے کا طریقۂ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہ ہو تو ایسا کاروبار کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال میں آپ نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ آپ  کا سوال ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں کس نوعیت کے کاروبار کے بارے میں ہے؟ تاکہ اسی کے مطابق شرعی حکم بیان کیاجاتا، تاہم مروجہ دیجیٹل مارکیٹنگ میں عمومًا غیرشرعی امور (جیسے: جاندار کی تصاویر اور خاص  کرنامحرم عورتوں کی تصاویر ، ویڈیوز، غیر شرعی اشتہارات اور جعل سازی ودھوکہ دہی وغیرہ) کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں ، اس لیے اس طرح کاروبار کرنے سے اجتناب ضروری ہے، البتہ اگر کہیں پرہر طرح کی غیرشرعی امور سے پاک ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا طریقۂ کار موجود ہو، اور اس میں کام بھی شرعی تقاضوں  اور اصولوں کے مطابق کیاجاتاہو، خارج میں موجود کسی چیز کی خریداری کے بعد اُس پر قبضہ سے پہلے آگے فروخت نہ کیا جاتا ہو، نیز سونا، چاندی یا کرنسیوں کی خرید وفروخت کے معاملات میں ادھار کا معاملہ نہ کیا جائے، الغرض مختلف النوع کاروبار کی تمام شرائط کی رعایت کی جائے تو وہ کاروبار کرنا جائز ہوگا، ورنہ نہیں۔

نوٹ: بہتر یہی ہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا جو طریقہ اختیار کیا جائے اس طریقہ کو وضاحت کے ساتھ لکھ کر اس کا حکم معلوم کرلیں۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

" وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها. اه".

(كتاب الصلاة، مطلب:مكروهات الصلاة، ج:1، ص:647، ط:سعيد)

وفیہ ایضًا:

"وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا؛ لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر".

(كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، ج:1، ص:650، ط:سعيد)

وفیہ ایضًا:

"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع".

(کتاب البیوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:69، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں