بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

دھوتی، پٹیالہ، شلوار، ٹیولپ شلوار پہننے کا حکم


سوال

 آج کل مردوں کی بھی دھوتی ،پٹیالہ ،شلوار آگئی ہے،اس میں بیلٹ ہوتی ہے،کیا یہ مردوں کے لیے پہننا جائز ہے کہ نہیں؟ اور دوسرا خواتین آج کل ٹیولپ شلوار شوق سے پہنتی ہیں ،کیا یہ خواتین  کے لیے جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ لباس کے معاملہ میں شریعتِ مطہرہ نے  کسی خاص وضع قطع کی پابند نہیں لگائی، البتہ کچھ حدود وقیود رکھی ہیں جن سے تجاوز کی اجازت نہیں، ان حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی وضع کو اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ جن کا خلاصہ یہ ہے:

1۔لباس اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو کہ جسم کے جن اعضاء کا چھپانا واجب ہے وہ یا ان کی ساخت ظاہر ہوجائے۔

2۔لباس میں عورت مرد کی، یا مرد عورت کی مشابہت اختیار نہ کریں۔

3۔کفار وفساق کی نقالی اور مشابہت نہ ہو۔

لہذا  سوال میں درج  (دھوتی ،پٹیالہ ،شلوار،  ٹیولپ شلوار)   میں سے جس میں   مذکورہ شرائط پائی جاتی ہوں  تو اس کا  پہننا جائز ہو گا،  اور اگر مذکورہ شرائط نہیں پائی جاتیں  تو  ایسا لباس پہننا جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200124

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں